Read in English  
       
Power Reform

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے ریاست کے بجلی کے شعبے میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تیسری پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق نئی کمپنی تلنگانہ رعیتو پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریاست میں زرعی بجلی کی فراہمی اور عوامی خدمات سے متعلق بجلی کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

ریاست میں اس سے پہلے دو بجلی تقسیم کار کمپنیاں کام کر رہی تھیں جن میں تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی اور تلنگانہ ناردرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی کمپنی کے قیام سے بجلی کے انتظامی نظام میں بہتری آئے گی اور زرعی شعبے سے متعلق مسائل کو الگ طور پر حل کیا جا سکے گا۔

حکومت نے سینئر آئی اے ایس افسر مشرف علی فاروقی کو نئی کمپنی کا چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے 4 ڈائریکٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

زرعی بجلی کی فراہمی کا نظام | Power Reform

نئی کمپنی بنیادی طور پر ریاست میں زرعی بجلی کی فراہمی اور سرکاری منصوبوں کے لیے بجلی کے انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔ اس کے تحت کسانوں کو فراہم کی جانے والی بجلی اور زرعی کنکشنز کا مکمل نظام اسی ادارے کے تحت چلایا جائے گا۔

اس کے علاوہ کسانوں کے لیے نئے بجلی کنکشنز کی درخواستوں کی جانچ اور منظوری کا عمل بھی اسی کمپنی کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس سے زرعی صارفین کو خدمات فراہم کرنے میں تیزی آئے گی۔

حکومتی منصوبوں کو بجلی کی فراہمی | Power Reform

نئی کمپنی ریاست کے بڑے اور درمیانے لفٹ ایریگیشن منصوبوں کو بجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی سنبھالے گی۔ اس کے ساتھ مشن بھاگیرتھا، حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اور مختلف بلدیاتی پانی فراہمی اسکیموں کے لیے بجلی کے کنکشنز بھی اسی کمپنی کے تحت ہوں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زرعی اور سرکاری منصوبوں سے متعلق بجلی کے بوجھ کو گھریلو اور صنعتی صارفین سے الگ کرنے سے انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے مسائل کے حل میں بھی تیزی متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام تلنگانہ کے قیام کے بعد بجلی کے شعبے میں کی جانے والی اہم اصلاحات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس نئے نظام سے کسانوں کو درپیش بجلی کے مسائل جلد حل ہوں گے اور زرعی شعبے کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں گی۔