Read in English  
       
Disqualification Case

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کی سیاست میں جاری ایم ایل اے نااہلی تنازعے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ریاستی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نے دو ارکان اسمبلی کے خلاف دائر نااہلی درخواستیں مسترد کر دیں۔ اس فیصلے کے بعد دونوں رہنماؤں کو بڑی راحت ملی ہے جبکہ ریاست کی سیاست میں اس معاملے پر نئی بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

اسمبلی اسپیکر گڈم پرساد کمار نے کڈیم سری ہری اور دانم ناگیندر کے خلاف دائر نااہلی درخواستوں کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ 12 مارچ کی آخری تاریخ سے پہلے سنایا۔ عدالت نے اسپیکر کو ہدایت دی تھی کہ وہ شکایات کی جانچ مکمل کر کے حتمی فیصلہ کریں۔

اس سے قبل اسپیکر اسی نوعیت کی درخواستوں کو 8 دیگر ارکان اسمبلی کے خلاف بھی مسترد کر چکے ہیں۔ تازہ فیصلے کے بعد اب تک مجموعی طور پر 10 ارکان اسمبلی کو اس معاملے میں راحت مل چکی ہے۔

سیاسی تنازعہ اور قانونی کارروائی | Disqualification Case

یہ معاملہ گزشتہ چند مہینوں سے تلنگانہ کی سیاست میں ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ بھارت راشٹر سمیتی کے رہنماؤں نے اسپیکر کے پاس شکایات درج کراتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے کئی ارکان اسمبلی بعد میں کانگریس میں شامل ہو گئے۔

شکایت میں جن ارکان اسمبلی کے نام شامل تھے ان میں کڈیم سری ہری، دانم ناگیندر، ٹیلم وینکٹ راؤ، پوچارم سرینواس ریڈی، پریگی سرینواس ریڈی، بندلا کرشنا موہن ریڈی، ایم سنجے کمار، گڈم مہیپال ریڈی، ٹی پرکاش گوڑ، کالے یادیا اور اریکی پوڈی گاندھی شامل تھے۔

عدالتی ہدایات اور تازہ سیاسی بحث | Disqualification Case

بی آر ایس کے رہنماؤں نے فیصلے میں تاخیر پر پہلے ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے کی سماعت کے بعد اسپیکر کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر تحقیقات مکمل کر کے فیصلہ سنائیں۔

اس پس منظر میں اسپیکر کے حالیہ فیصلے نے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مختلف جماعتوں کے درمیان سیاسی ردعمل اور بیانات کا سلسلہ مزید تیز ہو سکتا ہے۔