Read in English  
       
Heatwave Alert

حیدرآباد ۔ محکمہ موسمیات نے ریاست میں درجہ حرارت میں اچانک اضافے کے بعد شدید گرمی کا الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق مارچ کے آغاز ہی میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ موسمیات نے لوگوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

حکام کے مطابق ریاست کے شمالی اور مشرقی اضلاع میں درجہ حرارت میں خاص طور پر تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان علاقوں میں شدید گرمی کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ مزید برآں بعض مقامات پر درجہ حرارت پہلے ہی 39 سے 41 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے۔

متاثرہ اضلاع اور آئندہ دنوں کی پیش گوئی | Heatwave Alert

محکمہ موسمیات کے مطابق کھمم، بھدرادری کوتہ گوڑیم، منچریال، عادل آباد اور جگتیال اضلاع اس شدید گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں آنے والے دنوں میں درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی لیے حکام نے عوام کو احتیاط برتنے کی تاکید کی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ گرمی کی لہر آئندہ 3 سے 4 دن تک برقرار رہ سکتی ہے۔ پیش گوئی کے مطابق 7 مارچ سے 10 مارچ کے درمیان شدید گرم موسم برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مزید برآں اس دوران گرم ہوائیں بھی چل سکتی ہیں جو درجہ حرارت کے اثرات کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر اس طرح کی شدید گرمی اپریل یا مئی کے مہینوں میں دیکھی جاتی ہے۔ تاہم اس سال یہ صورتحال غیر معمولی طور پر پہلے ہی سامنے آ گئی ہے جس سے شہریوں اور کسانوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

حیدرآباد اور کسانوں کے لیے خدشات | Heatwave Alert

حیدرآباد شہر میں بھی مارچ کے مہینے کے لیے غیر معمولی درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 3 دنوں کے دوران شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 37 سے 38 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہا۔ اس صورتحال کے باعث شہری شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

کسانوں نے بھی اس گرمی کی لہر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ موسم میں اچانک تبدیلی فصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر گرمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو زیر زمین پانی کی سطح پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

حکام نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ شدید گرمی کے دوران احتیاط برتیں۔ خاص طور پر دوپہر 12 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔

مزید برآں بزرگ افراد، بچوں اور حاملہ خواتین کو خصوصی احتیاط کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔