Read in English  
       
Iftar Trends

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کا تاریخی شہر حیدرآباد رمضان المبارک کے دوران اپنے مخصوص غذائی منظرنامے کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں افطار کے کھانے صرف ذائقوں کا مجموعہ نہیں بلکہ سماجی اور معاشی تبدیلیوں کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ طویل عرصے تک رمضان کا تصور پرانے شہر کی گہماگہمی، حلیم کی خوشبو اور روشن گلیوں میں لگے اسٹریٹ فوڈ اسٹالز سے جڑا رہا۔ تاہم 2020 کی دہائی کے وسط تک آتے آتے شہر میں ایک نمایاں مگر خاموش تبدیلی سامنے آئی ہے۔

اب افطار کا رجحان بتدریج عوامی فوڈ اسٹریٹس سے ہٹ کر گھریلو اور صحت پر مبنی دسترخوان کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ شہری نوجوان غذائیت، صفائی اور اخراجات پر قابو پانے کے لیے گھر کے کھانوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ مزید برآں تازہ اجزا، روایتی پکانے کے طریقے اور متوازن غذا کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

تاریخی پس منظر اور ثقافتی اثرات | Iftar Trends

حیدرآباد کی غذا کسی ایک تہذیب کی پیداوار نہیں بلکہ ہندوستانی، مغل، ترک اور عرب اثرات کا امتزاج ہے۔ نظاموں کی سرپرستی نے اس ثقافتی امتزاج کو مزید تقویت دی، جس کے نتیجے میں کئی منفرد پکوان سامنے آئے۔ رمضان کی علامت سمجھے جانے والا حیدرآبادی حلیم اسی تاریخی میل جول کی ایک نمایاں مثال ہے۔

یہ ڈش دراصل عربی پکوان ہریس سے ماخوذ ہے جو یمن کے حضرموت علاقے سے آنے والی چاؤش برادری کے ذریعے ریاست حیدرآباد میں متعارف ہوئی۔ وقت کے ساتھ اس میں مقامی مصالحوں، خالص گھی اور طویل پکانے کے طریقے نے اسے توانائی سے بھرپور غذا بنا دیا۔ 2010 میں جغرافیائی شناخت کا درجہ ملنے کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ حلیم اب صرف ایک پکوان نہیں بلکہ شہر کی ثقافتی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔

گھریلو افطار میں آج بھی کئی روایتی اشیا شامل ہوتی ہیں۔ کھجور اور خشک میوے سے افطار کا آغاز عام روایت ہے، جبکہ پھلوں کا چاٹ اور مختلف مشروبات بھی دسترخوان کا حصہ بنتے ہیں۔ اسی طرح سموسے، پکوڑے اور دہی بڑے جیسے تلے ہوئے پکوان بھی اکثر گھروں میں تیار کیے جاتے ہیں۔

معاشی و سماجی تبدیلیاں اور جدید رجحانات | Iftar Trends

رمضان کے دوران حیدرآباد کی اسٹریٹ فوڈ معیشت غیر معمولی سرگرمی دکھاتی ہے۔ اندازوں کے مطابق ایک ہی سیزن میں اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور ہزاروں عارضی روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ حلیم بنانے والے ماہر باورچی کئی گھنٹوں تک بھٹیوں پر دیگیں چلاتے ہیں اور اس عرصے میں نمایاں معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔

اس کے باوجود جدید حیدرآبادی گھرانے اسٹریٹ فوڈ کو اب روزمرہ غذا کے بجائے ایک موقع کی خوراک سمجھنے لگے ہیں۔ بڑھتی قیمتیں، صفائی سے متعلق خدشات اور زیادہ چکنائی والی غذا کے صحت پر اثرات نے گھریلو باورچی خانے کو دوبارہ اہم بنا دیا ہے۔ چنانچہ افطار کے دسترخوان میں اب ہلکی سبزیاں، پھل اور سلاد جیسی صحت مند غذائیں زیادہ شامل کی جا رہی ہیں۔

گھر کے افطار کا مرکز دسترخوان ہوتا ہے جو صرف کھانے کی جگہ نہیں بلکہ برابری اور اجتماعیت کی علامت بھی ہے۔ افطار کا آغاز کھجور اور پانی سے کرنا، ہلکی غذا کا انتخاب اور عبادات کے لیے توانائی برقرار رکھنا اس روایت کا بنیادی حصہ ہے۔ پرانے شہر کے کئی خاندان آج بھی افطار کو سادہ رکھتے ہیں تاکہ رمضان کی روح یعنی صبر اور ضبط نفس برقرار رہے۔

’’حیدرآباد کے علاقے ملے پلی کے رہائشی فوٹو جرنلسٹ سید افتخار علی آصف کے مطابق ماضی میں پورا خاندان مل کر گھروں میں حلیم پکایا کرتا تھا، تاہم اب اکثر گھروں میں یہ بازار سے منگوائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بزرگ نسل سموسے، کباب اور چنے جیسے روایتی ذائقے پسند کرتی ہے جبکہ نوجوان نئے اجزا اور جدید ذائقوں کو آزمانے میں دلچسپی دکھاتے ہیں۔‘‘

2024 اور 2025 کے دوران ایک نیا رجحان بھی تیزی سے مقبول ہوا ہے جسے منظم افطار باکس کہا جا رہا ہے۔ یہ باکس سہولت، صفائی اور مقدار کے توازن کو یکجا کرتے ہیں اور مصروف پیشہ ور افراد کے لیے ایک آسان متبادل بن گئے ہیں۔ ریستوران بھی اب صرف روایتی ڈشز تک محدود نہیں بلکہ جدید پیکیجنگ اور متنوع مینو کے ذریعے گھریلو افطار کو سہل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

1400 سال پرانی غذائیں دوبارہ مقبول | Iftar Trends

گھریلو افطار میں صحت اور غذائیت پر توجہ بھی بڑھ رہی ہے۔ فائبر، پروٹین اور پانی سے بھرپور غذاؤں کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ ایئر فرائر جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے کم تیل میں اسنیکس تیار کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح “میک اینڈ فریز” طریقہ کار یعنی رمضان سے پہلے تیاری اور روزانہ تازہ پکانے کا رجحان بھی عام ہو رہا ہے۔

ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جدید صحت شعور نے 1400 سال پرانی غذاؤں کو دوبارہ مقبول بنا دیا ہے۔ تلبینہ، نبیذ اور ثرید جیسی غذائیں غذائیت اور روحانیت دونوں حوالوں سے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اس طرح جدید غذائی رجحانات اور مذہبی روایت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔

خریداری کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ چارمینار اور بیگم بازار آج بھی مصالحوں اور خشک میوہ جات کے لیے اہم مراکز ہیں، تاہم دودھ، دہی اور سبزیوں کے لیے فوری ڈیلیوری پلیٹ فارمز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس کے باوجود اعلیٰ معیار کی کھجوریں اور زعفران جیسے اجزا مخصوص دکانوں سے خریدنا اب بھی وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

’’رمضان کے دوران گھریلو شیف اور نجی کیٹرنگ خدمات کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ اس سے خاندان اپنی ضرورت کے مطابق مینو ترتیب دے سکتے ہیں اور گھریلو ماحول میں تازہ کھانا مہیا ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کھانے کا مرکز دوبارہ گھر بنتا جا رہا ہے۔‘‘

سوشل میڈیا سے افطار کے رجحانات متاثر | Iftar Trends

سوشل میڈیا نے بھی افطار کے رجحانات کو متاثر کیا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ پلیٹ فارمز نئے پکوان متعارف کروا رہے ہیں وہیں حد سے زیادہ تجارتی انداز میں پیش کیے جانے والے اسٹریٹ فوڈ پر تنقید بھی بڑھ رہی ہے۔ کئی مقامی افراد کے نزدیک گھریلو افطار ہی اصل ذائقے اور روحانیت کی نمائندگی کرتا ہے۔

نتیجتاً حیدرآباد میں افطار کی منصوبہ بندی اب ایک متوازن عمل بن چکی ہے جہاں اسٹریٹ فوڈ کی شان اور گھریلو سادگی ایک ساتھ موجود ہیں۔ جدید گھرانے منظم افطار باکس، ایئر فرائیڈ اسنیکس اور روایتی مشروبات کو ایک ہی دسترخوان پر سجا رہے ہیں۔ اس طرح رمضان کی روایت نہ صرف برقرار ہے بلکہ وقت کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہو رہی ہے۔