Read in English  
       
Digital Census

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے مردم شماری 2027 کی تیاریوں کو باضابطہ طور پر تیز کر دیا ہے، جو پہلی مرتبہ مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں منعقد کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف اعداد و شمار کی درستگی بہتر ہوگی بلکہ انتظامی شفافیت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ یوں ریاست ایک نئے انتظامی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

ریاستی چیف سکریٹری کے راماکرشنا راؤ نے سیکریٹریٹ میں ریاستی سطحی مردم شماری رابطہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کے دوران انتظامی، لاجسٹک اور عملی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں فیلڈ سطح کی تیاریوں اور مجوزہ ٹائم لائن پر بھی غور کیا گیا تاکہ عمل درآمد میں تاخیر نہ ہو۔

حکومت نے مردم شماری کے لیے جامع ابتدائی کام شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں جلد ضلع کلکٹروں کی کانفرنس طلب کی جائے گی۔ اس اجلاس میں ذمہ داریوں، نگرانی کے نظام اور عمل درآمد کے منصوبے پر بریفنگ دی جائے گی تاکہ ضلعی سطح پر مکمل ہم آہنگی قائم ہو سکے۔

ڈیجیٹل نظام اور انتظامی ہم آہنگی | Digital Census

چیف سکریٹری نے زور دیا کہ مختلف محکموں کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق بروقت فیصلے ہی مردم شماری 2027 کے ہموار انعقاد کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ درکار افرادی قوت کے تخمینے فوری طور پر تیار کیے جائیں۔

چونکہ اس بار مردم شماری مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوگی، اس لیے مکمل کوریج کو یقینی بنانا اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ خاص طور پر کسی بھی کچی آبادی، بستی یا دور دراز علاقے کو شمار سے باہر نہ رکھنے کی ہدایت دی گئی۔ علاوہ ازیں شمار کنندگان اور سپروائزرز کی معیاری تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینے کو کہا گیا۔

90,000 اہلکاروں کی تعیناتی کا منصوبہ | Digital Census

ڈائریکٹر مردم شماری بھارتی ہولیکیری نے اجلاس میں بتایا کہ یہ مرحلہ ریاست کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 90,000 سرکاری ملازمین کو تعینات کیا جائے گا۔ ترجیحی طور پر اساتذہ اور دیگر سرکاری عملہ شمار کنندگان اور سپروائزرز کے طور پر خدمات انجام دے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے ڈیٹا فوری طور پر دستیاب ہوگا، جس سے پالیسی سازی میں سہولت ملے گی۔ اسی طرح شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ نتیجتاً مردم شماری 2027 ریاستی گورننس کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

اجلاس میں متعدد سینئر افسران نے شرکت کی اور مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، تاہم حکومت پرعزم دکھائی دیتی ہے کہ 2027 میں یہ عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جائے گا۔