Read in English  
       
Liquor Case

حیدرآباد ۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی شراب اسکام سے متعلق مقدمے میں بی آر ایس رہنما کے کویتا، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال اور دیگر ملزمان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے یہ کارروائی اس وقت کی جب مرکزی تفتیشی بیورو نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ اس فیصلے میں ملزمان کو مقدمے سے بری قرار دیا گیا تھا۔

اس سے قبل راؤس ایونیو عدالت نے 27 فروری کو کے کویتا، اروند کجریوال اور منیش سسودیا کو بری کر دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں مرکزی تفتیشی بیورو نے اس فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ مزید برآں ایجنسی کا مؤقف تھا کہ مقدمے کے بعض پہلوؤں پر دوبارہ قانونی جانچ ضروری ہے۔

عدالتی کارروائی اور نوٹس کی ہدایات | Liquor Case

ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے تمام ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی تفتیشی بیورو کی درخواست پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے تحقیقاتی ادارے کی جانب سے عدالت میں دلائل پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے تحقیقاتی افسر کے خلاف دیے گئے بعض ریمارکس تحقیقاتی اداروں کے حوصلے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

عدالت نے ان دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے تحقیقاتی افسر اور ایجنسی کے خلاف دیے گئے منفی ریمارکس کو عارضی طور پر معطل کر دیا۔ مزید برآں عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ بعد کی سماعتوں میں کیا جائے گا۔

منی لانڈرنگ کیس اور آئندہ سماعت | Liquor Case

دریں اثنا ملزمان کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے درج منی لانڈرنگ کے مقدمے پر بھی روک لگائی جائے۔ تاہم ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مکمل طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے عدالت نے متعلقہ ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ منی لانڈرنگ کیس کی کارروائی کو فی الحال مؤخر رکھے۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ ہدایت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مرکزی تفتیشی بیورو کی نظرثانی درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ مزید برآں عدالت نے مقدمے کی اگلی سماعت اگلے پیر کے لیے مقرر کر دی ہے جہاں اس معاملے پر مزید قانونی دلائل پیش کیے جائیں گے۔