Read in English  
       
Political Criticism

حیدرآباد ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اور کریم نگر کے رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے کمار نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ کے بیانات میں اکثر تضاد پایا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کے مختلف معاملات پر دیے گئے بیانات بار بار بدلتے نظر آتے ہیں۔

بنڈی سنجے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کئی حکومتی امور پر متضاد دعوے کیے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت کے پاس غریبوں، دلتوں اور قبائلی طبقات میں تقسیم کیلئے زمین دستیاب نہیں ہے۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی حکومت نے صحافیوں اور موسی دریا منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کو زمین دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

فلاحی اخراجات پر سوالات | Political Criticism

مرکزی وزیر نے ریاستی حکومت کے فلاحی اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق حکومت نے کہا تھا کہ پنشن کی ادائیگی کیلئے مناسب فنڈز دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ اسی دوران وزیر اعلیٰ نے موسی منصوبے کیلئے ہزاروں کروڑ روپے فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالج طلبہ کیلئے فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ اس معاملے کو انہوں نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھانے کے مترادف قرار دیا۔

حکومتی پالیسیوں پر مزید اعتراضات | Political Criticism

بنڈی سنجے نے ریاست میں مفت برقی اسکوٹر فراہم کرنے کے وعدے پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق حکومت ایسے وعدے کر رہی ہے جن پر عملدرآمد کے حوالے سے شکوک پائے جاتے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ریاست میں مچھروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ عوام اس صورتحال سے پریشان ہیں اور اسے حکمران جماعت کی سیاسی مداخلت سے جوڑا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو عوامی مسائل کے حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔