Read in English  
       
TS-MESA

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ مائنارٹیز ایمپلائز سروس اسوسی ایشن TS-MESAنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کے سرکاری ملازمین، اساتذہ اور وظیفہ یابوں کے دیرینہ مسائل کو فوری اور مؤثر انداز میں حل کیا جائے۔

یہ مطالبہ 3 اگست 2025 کو اورینٹل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، حیدرآباد میں منعقدہ ریاستی سطح کے اجلاس میں سامنے آیا، جس کی صدارت بانی و ریاستی صدر ایم اے فاروق احمد نے کی۔ اجلاس میں ریاستی عہدیداران، ضلعی نمائندے اور دیگر ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس میں پی آر سی رپورٹ کی تکمیل اور اس پر عمل درآمد، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی، محکمہ جاتی ترقیات (پروموشنس) میں اقلیتی زمرے (بی سی-ای) کو شامل کرنے، آؤٹ سورسنگ تقررات میں اقلیتوں کو ترجیح دینے، ملازمین کے لیے سی جی ایچ ایس طرز کے ہیلتھ اسکیم کا نفاذ، ہفتے میں پانچ دن کام کے اصول کا اطلاق، اور خواتین ملازمین کو مرکزی حکومت کی طرز پر چائلڈ کیئر لیو دینے جیسے اہم مطالبات پر قرارداد منظور کی گئی۔

ٹی ایس۔ میسا نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام مطالبات نہ صرف جائز ہیں بلکہ سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود اور خدمات کے اعتراف سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ پی آر سی کی زیر التواء رپورٹ کو جلد مکمل کر کے اس کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے۔

محمد عبدالفاروق احمد نے کہا کہ ٹی ایس۔ میسا ریاست بھر کے اقلیتی ملازمین اور تمام سرکاری ملازمین کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی، اور امید ظاہر کی کہ حکومت ان مطالبات پر جلد مثبت ردعمل دے گی۔

اجلاس کی کارروائی محمد اعجاز الدین احمد نے چلائی، جبکہ ریاستی جنرل سکریٹری محمد توفیق الرحمان ، محمد یونس و دیگر بھی اجلاس میں موجود تھے۔