Read in English  
       
Kavitha Interview

حیدرآباد۔ تلنگانہ جاگروتی کی صدر اور سابق وزیراعلیٰ تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) کی دُختر کلواکنٹلہ کویتا کو دہلی شراب اسکام کیس میں گزشتہ دنوں خصوصی عدالت سے نہ صرف کلین چٹ ملی بلکہ اس کیس میں سی بی آئی کی سرزنش بھی کی گئی تھی۔ اسی کیس میں دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کجریوال اور وزیر منیش سسودیا بھی بری ہوئے ہیں۔ بہرحال، اس کیس کو لے کر اور اُن کی آنے والی سیاسی پارٹی سے متعلق سینئر جرنلسٹ شیخ خلیل فرہاد نے اُن سے خصوصی بات چیت کی۔

سوال: آخر آپ کو اس کیس میں، بقول آپ کے، بی جے پی نے پھنسایا ہے؟ تو اس کے پیچھے کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

کویتا: دیکھیں جو یونین گورنمنٹ بھارتیہ جنتا پارٹی چلا رہی ہے، ان کا ڈیزائن یہ ہے کہ ریجنل پارٹیز کہیں نہ بچیں اور پورا دیش ایک ہی رنگ میں رنگ جائے، یہی ان کا ارادہ ہے۔ اس فلسفے کو جو بھی چیلنج کریں گے اور جو بھی ہیومن رائٹس کے بارے میں بات کریں گے، پرسنل رائٹس کے بارے میں بات کریں گے، ان سب کو توڑنے کا ان کا ارادہ ہے۔ تو پارٹی بھی توڑیں گے، آپ کا مورال بھی توڑنے کی کوشش کریں گے، آپ کی ہمت توڑنے کی کوشش کریں گے اور پبلک لائف سے آپ کو برخاست کرنے کی کوشش کریں گے۔

ویسے بہت سی ریاستوں میں کافی بڑے بڑے لیڈر بھی ٹوٹ چکے ہیں، ریٹائر ہو چکے ہیں یا بی جے پی میں شامل ہو چکے ہیں۔ تو یہ ان کا ایک ڈیزائن چل رہا ہے پورے دیش بھر میں۔ اسی ڈیزائن کے تحت ہمارا بھی یہ کیس آتا ہے، ایسا مجھے لگتا ہے۔

دہلی شراب کیس اور سیاسی الزامات | Kavitha Interview

سوال: میڈم، جب کیس آپ پر درج ہوا تو ساتھ ہی ایک لیبل لگا تھا آپ پر۔ اب جب کیس میں آپ بری ہوئی ہیں تو آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟

کویتا: دیکھیں، سادہ سی بات ہے۔ جو میں ڈیزائن کے بارے میں بول رہی ہوں، اس میں ہوا یہ ہے کہ جو لوگ تہذیب کے بارے میں بولتے ہیں، ان پر ایک ایسا لیبل لگا دو کہ بدنامی آپ کے پیچھے پڑ جائے۔ جیسے کجریوال صاحب بول رہے تھے کہ ہم اینٹی کرپشن کے لیڈر ہیں، تو ان کے اوپر کرپشن کا لیبل لگا دیا گیا۔ ہم تلنگانہ کی تہذیب کے بارے میں بولتے ہیں، تلنگانہ کی خواتین کے تہوار بتکماں کے بارے میں ہم بولتے ہیں، تو ہمیں اس شراب کیس میں پھنسا کر لیبل لگا دیا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہوتی ہے کہ جب ایسا کیس لگ جاتا ہے تو بدنامی ہو جاتی ہے۔ دنیا میں اس کو ریورس کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا آسان بدنام کرنا ہوتا ہے۔

ہماری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ ہم پبلک میں رہیں، پبلک کے ایشوز پر بات کریں اور پبلک کا جتنا ہو سکے اتنا کام کریں۔ ہم عوام کے درمیان رہیں گے اور کام کرتے رہیں گے، بس ہمت سے کام کرنا پڑے گا۔ یہ جو بدنامی اور الزامات کا سلسلہ ہے، یہ سسٹم صدیوں سے چلتا آ رہا ہے کہ سیاسی طاقت کے ذریعے الزامات لگا دیے جاتے ہیں۔

عدالت کا فیصلہ سچائی کی جیت | Kavitha Interview

سوال: دہلی شراب اسکام کیس کا آپ کے دامن پر لگا داغ اب دھل گیا ہے؟ اب آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں؟

کویتا: دہلی شراب اسکام کو میں پہلے سے ہی بی جے پی کی جانب سے کھڑا کیا گیا فرضی اسکام قرار دیتی رہی ہوں۔ عدالت کے فیصلے نے میرے دعوے کو صحیح ثابت کر دیا ہے۔ ہاں، دہلی شراب اسکام کیس کا داغ نہ صرف میرے بلکہ میرے والد کے سی آر اور بی آر ایس پارٹی پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی تھی، جو آج بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔ عدالت نے مجھے اور دیگر کو اس کیس میں نہ صرف بری کر دیا بلکہ ٹھوس ثبوت نہ ہونے پر سی بی آئی کی سرزنش بھی کی۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ سچائی کی جیت ہوگی اور عدالت کی جانب سے آیا ہوا فیصلہ سچ کی جیت ہی ہے۔

سوال: آپ پر الزام لگانے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟ کیا اُن کے خلاف ایکشن لینے کا ارادہ ہے؟

کویتا: عدالت کے فیصلے سے میں صحیح ثابت ہو گئی اور بی جے پی کی جانب سے لگائے گئے فرضی الزامات خود بی جے پی کے لیے اُلٹ پڑ گئے۔ رہی سبق سکھانے کی بات تو یہ ضروری نہیں ہے۔ کیچڑ سے جتنا دور رہا جائے وہ ہمارے لیے اتنا ہی اچھا ہے۔ پورے انڈین ہسٹری میں پہلی بار ایک تحقیقاتی افسر کے اوپر ڈپارٹمنٹل انکوائری بٹھائی گئی ہے۔ یعنی جس طریقے سے یہ انویسٹی گیشن ہوئی، جتنا بائیزڈ (جانبدار) اور پولیٹکلی موٹیویٹڈ یہ کیس تھا، وہ سب کے سامنے آ گیا ہے۔

جیل کے تجربات اور نئی سیاسی حکمت عملی | Kavitha Interview

سوال: عام عوام کے ذہن میں جیل کے حالات انتہائی مخدوش ہوتے ہیں، تو آپ نے بھی جیل میں کافی عرصہ گزارا۔ کچھ جیل کے حالات کے بارے میں بتائیے؟

کویتا: (کچھ سوچتے ہوئے) ہاں، میں نے جیل کے حالات کے بارے میں کسی کو زیادہ کچھ نہیں بتایا۔ آپ سے چند باتیں شیئر کرتی ہوں۔ مجھے ای ڈی جیل میں پانچ دن رکھا گیا۔ یہ جیل سافٹ ویئر بلڈنگ کی طرح ہوتی ہے، اے سی وغیرہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے تہاڑ جیل لے جایا گیا۔ یہاں بالکل ہی مختلف حالات ہوتے ہیں۔ الگ الگ بیک گراؤنڈ سے آئے قیدی ہوتے ہیں۔ کئی تو ایسے تھے جن کی ضمانت دو تین سال پہلے ہو چکی تھی، لیکن ضمانت کی رقم ادا نہیں کر سکتے تھے، اس لیے وہ رہا نہیں ہو سکے۔

میری سیل میں دو خواتین تھیں جن پر قتل کے الزامات تھے اور وہ انڈر ٹرائل تھیں۔ میرے جیل میں آنے کے بعد وہ اپنے کیسز کے مسائل لے کر آتی تھیں اور میں حتی الامکان کوشش کرتی تھی کہ اُن کو راحت پہنچاؤں۔ ہم نے بہت سے لوگوں کی لیگل مدد بھی کی۔ میرے ساتھ جیل انتظامیہ کا رویہ عام قیدیوں جیسا تھا، لیکن سکیورٹی کا خیال رکھا جاتا تھا۔ جیل میں زیادہ تر وقت کتابیں پڑھنے میں گزارا۔ کھانا بھی جیل کا ہی ہوتا تھا۔ جب بھی میرے شوہر آتے تو میرے لیے دو جوڑی کپڑے لاتے تھے۔ جیل میں خود کو مصروف رکھنے کے لیے میں زیادہ تر میڈیٹیشن کرتی تھی، جس کی مجھے بچپن سے عادت تھی۔ ویسے بھی عبادت سے ذہنی سکون ملتا ہے۔ اور یہ بھی سوچتی تھی کہ مجھ سے زیادہ یہاں قید دوسری خواتین کا درد اور پریشانی زیادہ ہے۔ جیل میں دو مہینے گزارنے کے بعد اخبار بھی ملنے لگے، البتہ کئی خبریں کاٹ دی جاتی تھیں۔

جیل کے تجربات اور نئی سیاسی حکمت عملی | Kavitha Interview

سوال: جیل میں قید کے دوران کا کوئی ایسا واقعہ جو آپ کے ذہن میں نقش رہ گیا ہو؟

کویتا: ہاں، ایک دو واقعات ایسے ہیں جن میں سے ایک واقعہ میں آپ کو بتاتی ہوں۔ قریب بیس سے پچیس نوجوان خواتین، جو سافٹ ویئر پروفیشنلز تھیں، جیل میں لائی گئیں۔ ان کی عمریں بیس سے پچیس سال کے درمیان تھیں اور وہ سب رو رہی تھیں۔ دراصل ایک سافٹ ویئر کمپنی نے اُنہیں ریکروٹ کیا تھا اور اس کمپنی سے جڑی ایک اور کمپنی تھائی لینڈ میں دھوکہ دہی کے کیس میں پھنس گئی۔ اس کے بعد اس کمپنی کے لڑکے لڑکیوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا، حالانکہ ان لڑکیوں کا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ روتی بلکتی ان بچیوں کی کونسلنگ کی گئی اور اُنہیں ہمت دلائی گئی۔

دوسرا واقعہ بھی چونکانے والا تھا۔ جب میں جیل میں کتاب پڑھ رہی تھی تو باہر سے بہت زیادہ چیخ و پکار کی آوازیں آئیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون قیدی نے دوسری خاتون پر گرم پانی پھینک کر حملہ کیا تھا۔ دراصل ان خواتین میں شدید غصہ اور پریشانی کا عالم ہوتا ہے اور ایسے حالات میں بعض اوقات خواتین قیدی ایسا کر بیٹھتی ہیں۔ بہرحال، جیل کا ماحول بہت ڈپریسڈ اور وائلنٹ ہوتا ہے۔

سوال: شراب اسکام کیس میں ملزم بن کر جیل میں رہنے سے لے کر باعزت بری ہونے تک آپ کو کیا سبق ملا؟

کویتا: میرا ماننا ہے کہ خدا جسے صحیح اور غلط کی پہچان کرانا چاہتا ہے اُسے پریشانی میں ڈالتا ہے۔ مصیبت میں اپنے اور پرائے کی پہچان ہوتی ہے۔ (اپنی سابقہ پارٹی بھارت راشٹریہ سمیتی، بی آر ایس کے بارے میں بات کرتے ہوئے) جب میرا سب سے مشکل وقت تھا، اس وقت پارٹی نے میرا ساتھ نہیں دیا بلکہ مجھے پارٹی سے بے دخل کر دیا۔ اب اس پارٹی سے میرا کیا واسطہ رہتا ہے؟ اس لیے بی آر ایس کے ساتھ میرا کوئی تعلق اب نہیں ہے اور نہ آئندہ رہے گا۔ ہم تلنگانہ کے عوام کے لیے ایک آزاد علاقائی پارٹی بنانا چاہتے ہیں جو تلنگانہ کے عوام کے بارے میں سوچ کر کام کرے۔

نئی پارٹی  میں اقلیتوں پر خصوصی توجہ| Kavitha Interview

سوال: تلنگانہ میں آپ اپنی پارٹی کس اساس پر قائم کریں گے؟

کویتا: آج جتنی بھی پارٹیاں یہاں ہیں، خاص طور پر بڑی پارٹیاں جن کے پاس زیادہ سیٹس ہیں، چاہے بی جے پی ہو، بی آر ایس ہو یا کانگریس، سب نیشنل پارٹیاں ہیں۔ یہ پورے دیش کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ تلنگانہ کے مسائل پر بات کرنے کے لیے ایک مضبوط ریجنل پارٹی کی ضرورت ہے اور ہم وہ پارٹی بنانا چاہتے ہیں۔ آنے والے دو مہینوں میں ہم نئی پارٹی بھی لانچ کریں گے۔ مجھے جو کلین چٹ ملی ہے، مجھے لگتا ہے یہ قدرت کی ایک نعمت ہے، خدا کا کرم ہے۔ پارٹی قائم کرنے سے پہلے یہ کلین چٹ ملنا ہمیں بہت حوصلہ دیتا ہے۔

انٹرویو کے آخر میں کے کویتا نے اپنے شوہر کو اپنی سب سے بڑی ہمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔ جب میں جیل میں تھی تو میرے شوہر (انیل کمار) کا زیادہ تر وقت دہلی میں ہی گزرا۔ وہ اگلی پیشی کے لیے وکیلوں سے بات کرتے اور کیس میں مدد کے لیے دہلی میں رہتے تھے۔

جیل میں رہتے ہوئے اپنی فیملی کو ہوئی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ میرے جیل میں رہنے اور میرے شوہر کے دہلی میں قیام کی وجہ سے بچوں کے لیے یہ کافی صبر آزما دور تھا۔ میرے ساس اور سسر بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر میں رکے ہوئے تھے۔ پھر ٹی وی پر ایسی خبریں بھی آتی تھیں کہ مجھے جیل سے نکلنے میں دو یا تین سال لگ سکتے ہیں، لیکن سب کی دعائیں تھیں۔ بہت مضبوط فالوورز تھے جن سے حوصلہ ملا اور یہ وقت گزر گیا۔

کویتا کے مطابق، اگر آپ سچ کے ساتھ ہیں تو چاہے آپ کو عدالتوں میں گھسیٹا جائے، آخرکار جیت آپ ہی کی ہوگی۔ اسی مضبوط یقین کے ساتھ ہم تلنگانہ میں نئی پارٹی بنائیں گے اور عوام کی خدمت کریں گے۔ ہم شفاف اور زمینی سطح کی سیاست کر کے دکھائیں گے۔