Read in English  
       
Sand Mining

حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے تارک راما راؤ (کے ٹی آر) نے انارم بیراج کو کمزور کرنے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر قانونی ریت نکاسی کے ذریعے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس بیان کے بعد ریاستی سیاست میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا میڈی گڈہ بیراج کو نشانہ بنانے کے بعد اب انارم بیراج کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم عناصر بھاری مشینری کے ذریعے بیراج کے نیچے بڑے پیمانے پر ریت نکال رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے اسے سنگین خلاف ورزی اور بڑا جرم قرار دیا۔

قوانین کی خلاف ورزی کا الزام|Sand Mining

کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ بیراج جیسے ڈھانچوں کے قریب ریت نکاسی قواعد کے تحت ممنوع ہے۔ لہٰذا اس عمل میں ملوث افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مبینہ سازش کی جامع جانچ کی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

ان کا الزام تھا کہ اس کارروائی کا مقصد بیراج کو کمزور کرنا اور بی آر ایس کو بدنام کرنا ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کالیشورم پروجیکٹ پر سیاسی تناؤ|Sand Mining

کے ٹی راما راؤ کے مطابق بیراج کے ستونوں کے قریب غیر قانونی ریت نکاسی ڈھانچے کے لیے خطرناک ہے اور یہ دانستہ سازش کے مترادف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس رہنما دن دہاڑے کام کرنے والی ریت مافیا کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اسے تلنگانہ کے وسائل کے استحصال کی مثال قرار دیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کالیشورم بیراجوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری کانگریس پر عائد ہوگی۔ نتیجتاً انہوں نے کہا کہ عوام حکمران جماعت کو جواب دہ ٹھہرائیں گے۔