Read in English  
       
Peace Committees

حیدرآباد: پولیس کمشنر وی سی سجنار نے امن کمیٹیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پولیس اور عوام کے درمیان مؤثر پل کا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق یہی رابطہ شہر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور جرائم سے پاک ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ یوں شہری ذمہ داری اور ادارہ جاتی تعاون کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انہوں نے بنجارہ ہلز میں تلنگانہ انٹیگریٹڈ کمانڈ کنٹرول سنٹر میں سنٹرل پیس اینڈ ویلفیئر کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حیدرآباد کو فرقہ وارانہ یکجہتی کی ایک بلند مثال قرار دیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ شہر کی منفرد گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کی ذمہ داری ہر شہری پر عائد ہوتی ہے۔

پولیس کمشنر نے یاد دلایا کہ 1984 میں قائم ہونے والی امن کمیٹیوں نے قانون و نظم کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران ان کمیٹیوں نے امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دی۔ نتیجتاً حیدرآباد عالمی ترقیاتی مرکز کے طور پر ابھرا۔

زمینی سطح پر رابطے کی مضبوطی | Peace Committees

آئندہ تہواروں کے پیش نظر وی سی سجنار نے ہدایت دی کہ امن کمیٹیاں فیلڈ سطح پر رابطے کو مزید مضبوط بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقاریب اور اجتماعات میں اتحاد اور بھائی چارے کا عملی مظاہرہ ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے سوشل میڈیا پر جھوٹی افواہوں اور منفی پروپیگنڈے سے خبردار بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی ارکان فوری طور پر غلط معلومات کی تردید مستند حقائق کے ذریعے کریں۔ بصورت دیگر ایسی افواہیں غیر ضروری خوف اور کشیدگی کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس لیے بروقت ردعمل کو کلیدی اہمیت دی گئی۔

سائبر جرائم اور منشیات کے خلاف اقدامات | Peace Committees

اجلاس میں سائبر جرائم کی روک تھام اور منشیات کے مسئلے پر قابو پانے سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پولیس کمشنر کے مطابق عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اب ہر تین ماہ بعد زونل سطح پر امن کمیٹیوں کے اجلاس لازمی طور پر منعقد کیے جائیں گے۔ اس اقدام سے باہمی رابطہ مزید مؤثر ہوگا اور ممکنہ مسائل کو بروقت حل کرنے میں مدد ملے گی۔ نتیجتاً شہر میں امن و امان کی فضا کو مستحکم رکھنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔