Read in English  
       
Nizamabad Allegations

حیدرآباد: نظام آباد میونسپل کارپوریشن میں میئر اور ڈپٹی میئر انتخابات کے بعد بی جے پی رکن پارلیمنٹ دھرم پوری اروند نے غیر اخلاقی اتحاد کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس، بھارت راشٹرا سمیتی اور مجلس اتحاد المسلمین نے بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ہاتھ ملایا۔ ان کے مطابق تینوں جماعتوں نے نظریاتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اقتدار کے لیے گٹھ جوڑ کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اروند نے ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ کلواکنٹلہ خاندان کو کیوں تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جن پر فون ٹیپنگ اور فارمولا-ای کار ریس جیسے سنگین الزامات ہیں۔ مزید برآں انہوں نے پوچھا کہ بی آر ایس امیدوار کو کانگریس گاڑی میں کیوں لایا گیا اور مجلس نے کانگریس کی حمایت کیوں کی۔

سیاسی جوڑ توڑ اور نظام آباد کا انتخابی تنازع | Nizamabad Allegations

اروند نے الزام لگایا کہ انتخابی عمل کے دوران بعض پولیس افسران نے حکمران جماعت کے لیے کردار ادا کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پولیس کی موجودگی میں بی آر ایس امیدوار کو کانگریس کی وین میں لایا گیا۔ اسی لیے انہوں نے اس پورے عمل کو مشکوک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام پیش رفتیں مخالف جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس امیدوار نے بی جے پی کی امیدوار شراونتی ریڈی کے خلاف صرف 3 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ مزید یہ کہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجلس امیدوار کی جیت کے پیچھے بھی کانگریس کی حکمت عملی کارفرما تھی۔

نتیجہ حتمی نہیں، بی جے پی کا عزم برقرار | Nizamabad Allegations

دھرم پوری اروند نے واضح کیا کہ یہ نتیجہ بی جے پی کے لیے آخری باب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ میعاد ختم ہونے سے پہلے پارٹی اس نتیجے کو پلٹ کر دکھائے گی اور مبینہ غیر قانونی اتحادوں کو بے نقاب کرے گی۔

اگرچہ انہوں نے نومنتخب میئر اور ڈپٹی میئر کو مبارکباد دی، تاہم انہوں نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ نظام آباد کے بلدیاتی انتخابات میں غیر اخلاقی اتحاد نے بی جے پی کو نقصان پہنچایا۔ نتیجتاً انہوں نے آئندہ سیاسی طور پر اس اتحاد کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا۔