Read in English  
       
FSL Fire

حیدرآباد: نامپلی میں فورنسک سائنس لیبارٹری کی عمارت میں پیش آنے والی آتشزدگی کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ناگپور کی خصوصی ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ آگ کے باعث 1,100 فائلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی بحالی ممکن نہیں۔ یہ واقعہ 7 فروری کو لیبارٹری کی پہلی منزل پر پیش آیا تھا۔

ابتدائی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ آگ نے تقریباً 50 کمپیوٹرز اور کئی ضبط شدہ ہارڈ ڈسکس کو بھی جلا دیا۔ ان آلات میں سنگین فوجداری مقدمات سے متعلق تکنیکی شواہد محفوظ تھے۔ تاہم خصوصی ٹیم کے جائزے کے بعد واضح کیا گیا کہ ڈیجیٹل ریکارڈ واپس حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ نتیجتاً تفتیشی اداروں کو اہم الیکٹرانک شواہد کے مستقل نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نامپلی FSL Fire کے اثرات اور حساس ریکارڈ

ذرائع کے مطابق تباہ شدہ فائلوں میں بعض جاری تحقیقات سے متعلق اہم شواہد بھی شامل تھے۔ خاص طور پر مبینہ فون ٹیپنگ کیس سے جڑے سائنسی ریکارڈ بھی آگ کی نذر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے باوجود حکام نے اب تک مکمل طور پر متاثرہ فائلوں کی فہرست جاری نہیں کی ہے۔ دریں اثنا مجموعی نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

فورنسک سائنس لیبارٹری ریاست بھر میں جرائم کی تفتیش میں پولیس کی معاونت کرتی ہے۔ جب بھی کوئی بڑا جرم پیش آتا ہے تو نمونے اور ڈیجیٹل شواہد تجزیے کے لیے لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں۔ ماہرین فنگر پرنٹس، خون کے نمونے، بالوں کے ریشے اور ڈی این اے کے آثار کا معائنہ کرتے ہیں۔

تحقیقات پر بڑھتے خدشات | FSL Fire

اس کے علاوہ آتشیں اسلحہ، گولیاں، زہریلے مادے اور منشیات کا بھی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین متنازع دستخطوں کی تصدیق اور جعلی دستاویزات کی جانچ بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے قتل، ڈکیتی، جنسی حملے اور دھوکہ دہی جیسے مقدمات میں لیبارٹری کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔

اب جبکہ نامپلی FSL Fire میں 1,100 فائلیں جل چکی ہیں، زیر التوا تحقیقات کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ لہٰذا حکام پر دباؤ ہے کہ وہ اثرات کا جائزہ لے کر اصلاحی اقدامات طے کریں۔ تاحال کسی مخصوص متبادل منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔