Read in English  
       
Minority Education

حیدرآباد: حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کہا ہے کہ اقلیتی برادری کی طویل مدتی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو اولین ترجیح دیں اور سرکاری فلاحی اسکیموں سے بھرپور استفادہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے تعلیمی بیداری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

وہ منگل کے روز ظہیرآباد کے آدرش نگر، اشون کالونی میں مسجدِ عالیہ جواد کے افتتاح کے بعد خطاب کر رہے تھے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسجد کی تعمیر روحانی اور سماجی دونوں اعتبار سے اہمیت رکھتی ہے۔ مزید برآں انہوں نے اسے اجتماعی کوششوں کا نتیجہ اور آنے والی نسلوں کے لیے پائیدار سرمایہ قرار دیا۔

انہوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مساجد صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ نظم و ضبط اور اتحاد کے مراکز بھی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے برادری سے اپیل کی کہ مساجد کو باقاعدہ نمازوں اور تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے فعال رکھا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے رمضان میں زیادہ شرکت اور زکوۃ کی ادائیگی میں سنجیدگی اختیار کرنے کی بھی تاکید کی۔

سرکاری پالیسی کا محور | Minority Education

محمد علی شبیر نے اپنے خطاب کا بڑا حصہ اقلیتی تعلیم کے موضوع پر مرکوز رکھا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کی پہلی وحی علم کے حصول پر زور دیتی ہے، تاہم تاریخی طور پر مسلم برادری جدید تعلیمی اشاریوں میں پیچھے رہی ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے ماضی کی رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں تعلیمی پسماندگی کو نمایاں کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق یہی تشویش حکومتی دور میں مخصوص پالیسی اقدامات کا باعث بنی۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد ریزرویشن کو انقلابی قدم قرار دیا۔ اس پالیسی کے ذریعے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ہزاروں طلبہ کو پیشہ ورانہ کورسز تک رسائی ملی۔

Minority Education

انہوں نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور ادارہ جاتی تعاون کے باعث معاشی طور پر کمزور طلبہ طب، انجینئرنگ اور مینجمنٹ جیسے شعبوں میں داخلہ لینے کے قابل ہوئے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں اس پالیسی کے اثرات نمایاں ہوئے اور کئی خاندانوں کی سماجی حیثیت میں بہتری آئی۔ اب ایسے گھروں سے ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر پیشہ ور افراد سامنے آ رہے ہیں۔

پیشہ ورانہ میدان میں پیش رفت | Minority Education

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کئی مستفید طلبہ نے نیورولوجی اور دیگر سپر اسپیشلٹی شعبوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے مطابق یہ نتائج جامع اور شمولیتی پالیسیوں کی طویل مدتی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید برآں مسلسل توجہ سے صحت، قانون، سائنس اور انتظامیہ میں نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

محمد علی شبیر نے ریاست میں طبی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالجوں میں نشستوں میں اضافہ اور لا کالجوں کی مضبوطی سے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ اہل طلبہ کو چاہیے کہ وہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

مدرسہ انتظامیہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم کو مربوط کرنے کی اپیل کی۔ قرآن کی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر اور انگریزی زبان کی تربیت کو بھی شامل کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق دونوں نظاموں کا امتزاج طلبہ کو مسابقتی میدان میں اعتماد فراہم کرے گا۔

انہوں نے مذہبی تقاریب میں نظم و ضبط اور سماجی ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ذمہ دارانہ طرز عمل برادری کے مثبت تشخص کو مضبوط بناتا ہے۔ آخر میں انہوں نے رمضان کو روحانی احتساب اور سماجی خدمت کا ذریعہ بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ خیرات، تعلیم اور اتحاد پائیدار ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔

تقریب میں مولانا مفتی ڈاکٹر محمد سیف اللہ، میر جواد علی گتہ دار اور مسجد کے صدر میر جاوید علی گتہ دار سمیت دیگر مذہبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔