Read in English  
       
National Alert

حیدرآباد ۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد مرکز نے تمام ریاستوں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ممکنہ فرقہ وارانہ تناؤ اور احتجاج کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس پیش رفت نے ملک بھر میں سکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا ہے۔

مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی پولیس محکموں کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ مغربی ایشیا کی جنگی صورتحال کے اثرات اندرون ملک بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ بعض عناصر بدامنی پھیلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

عبادت گاہوں اور اجتماعات کی نگرانی|National Alert

وزارت داخلہ نے پولیس کو مذہبی اجتماعات اور عبادت گاہوں کی کڑی نگرانی کا حکم دیا ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے حامی شدت پسند مقرر اشتعال انگیز تقاریر کر سکتے ہیں۔ لہٰذا حکام کو نگرانی بڑھانے اور پیشگی اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

مرکز نے ریاستوں کو خفیہ ایجنسیوں کے درمیان تال میل مضبوط بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ مزید برآں انٹیلی جنس شیئرنگ میں تیزی لانے اور قانون و نظم میں خلل روکنے کے لیے پیشگی کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔

مختلف شہروں میں احتجاج اور سکیورٹی سختی|National Alert

اسی دوران خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ حیدرآباد، کرناٹک کے بعض علاقوں، دہلی اور اتر پردیش میں مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ نتیجتاً حساس مقامات پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

حکام کو خدشہ ہے کہ شرپسند عناصر ان احتجاجوں کو تشدد میں تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سکیورٹی ایجنسیاں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں مرکز مغربی ایشیا کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کی شب کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کا اجلاس طلب کر کے تازہ حالات کا جائزہ لیا۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں مزید ہدایات جاری ہونے کا امکان ہے۔