Read in English  
       
Police Reshuffle

حیدرآباد: حیدرآباد پولیس نے شہر کے کمشنریٹ میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے 63 انسپکٹروں کے تبادلے کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد آپریشنل کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا اور مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرنا ہے۔ اس پیش رفت کو شہر کی سکیورٹی حکمت عملی میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ احکامات سٹی پولیس کمشنر وی سی سجنار نے 16 فروری 2026 کی رات جاری کیے۔ اس سے قبل 14 فروری کو پولیس اسٹیبلشمنٹ بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں تبادلوں کی منظوری دی گئی۔ چنانچہ کئی افسران کو اہم تھانوں میں اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا جبکہ دیگر کو اسپیشل برانچ، ٹریفک اور کرائم ونگ میں منتقل کیا گیا۔

اہم تبادلوں میں ٹی رام بابو کو اسپیشل برانچ سے چارمینار تھانے کا ایس ایچ او مقرر کیا گیا۔ اسی طرح یو سرینواسلو ریڈی کو سیف آباد سے جوبلی ہلز منتقل کیا گیا جبکہ اے سیتیا کو فلک نما سے سیف آباد تعینات کیا گیا۔ مزید برآں ایس کوٹیشور راؤ کو آصف نگر ٹریفک سے چھتری ناکہ تھانے کا چارج دیا گیا اور این موہن راؤ کو چھتری ناکہ ٹریفک سے افضل گنج بھیجا گیا۔

حیدرآباد پولیس کی فوری رپورٹنگ ہدایت | Police Reshuffle

کمشنر نے تمام تبادلہ شدہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ سینئر افسران کو احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے اور تعمیل رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

انتظامیہ نے ان انسپکٹروں کو بھی اسپیشل برانچ میں تعینات کیا جو نئی ذمہ داریوں کے منتظر تھے۔ ان میں کے سرینواسلو، کے آدی ریڈی، کے چندر شیکھر اور سی ایچ پرشورام شامل ہیں۔ مزید یہ کہ کے نارائنا ریڈی اور یو چندر شیکھر کو سائبر کرائمز ونگ میں منتقل کیا گیا جبکہ ٹی وامسی کرشنا راؤ کو شی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اسی دوران بی پلی پدما کو بھروسہ سینٹر کی نگرانی سونپی گئی۔

انتظامی حکمت عملی میں تبدیلی کے اثرات | Police Reshuffle

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے تبادلے نہ صرف ادارہ جاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ کارکردگی میں بہتری کا باعث بھی بنتے ہیں۔ تاہم اصل اثرات آئندہ ہفتوں میں سامنے آئیں گے جب نئے ایس ایچ اوز اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر سنبھال لیں گے۔ نتیجتاً توقع کی جا رہی ہے کہ جرائم کی روک تھام اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مزید استحکام آئے گا۔

آخر میں کمشنر نے متعلقہ شعبوں کو ہدایت دی کہ احکامات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ یوں محکمہ پولیس نے واضح کیا ہے کہ پیشہ ورانہ معیار اور بروقت کارروائی اس کی اولین ترجیح رہے گی۔

Police Reshuffle