Read in English  
       
Hyderabad Future

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے شہر کو مستقبل کی جدید سائنسی تجربہ گاہ میں تبدیل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ اسے لائف سائنسز، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ میں عالمی مرکز بنایا جا سکے۔ اس حکمت عملی کا مقصد جدت پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا اور ریاست کی عالمی شناخت کو مستحکم کرنا ہے۔ چنانچہ حکومت نے طویل المدتی وژن کے ساتھ واضح اہداف مقرر کیے ہیں۔

ریاستی وزیر برائے آئی ٹی و صنعت دوڈیلا سریدھر بابو نے بایو ایشیا 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ تقریب حیدرآباد انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2030 تک لائف سائنسز کے شعبے میں 25 ارب ڈالر سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ہدف ہے جبکہ 5 لاکھ نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

عالمی درجہ بندی کی دوڑ میں Hyderabad Future

وزیر کے مطابق عالمی صحت کا نظام ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اب دنیا بھارت کو محض ادویات اور ویکسین کی تیاری تک محدود نہیں سمجھتی بلکہ جدید سائنسی حل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اسی لیے تلنگانہ مینوفیکچرنگ بیس سے آگے بڑھ کر تحقیق، اختراع اور جدید ادویات کی دریافت پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نیکسٹ جنریشن لائف سائنسز پالیسی 2026-2030 کے تحت ریاست کو دہائی کے اختتام تک دنیا کے سرفہرست تین لائف سائنسز کلسٹرز میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ مزید برآں اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تحقیق اور اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ میں منظم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سی بی آر ای گلوبل لائف سائنسز اٹلس 2025 نے حیدرآباد کو نمایاں عالمی ماحولیاتی نظاموں میں واحد بھارتی شہر کے طور پر تسلیم کیا۔ اس رپورٹ میں شہر کو بوسٹن، سان فرانسسکو، بیجنگ اور ٹوکیو جیسے مراکز کے ساتھ رکھا گیا۔ تاہم ریاستی حکومت اس مقام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل حکمت عملی اپنا رہی ہے۔

اسی دوران مستقبل کی افرادی قوت کی تیاری پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ تلنگانہ اسکول آف لائف سائنسز اور ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی نے ایم آر این اے ٹیکنالوجی، جین ایڈیٹنگ اور اے آئی پر مبنی ڈرگ ڈسکوری میں خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ مہارت یافتہ افرادی قوت تیار ہو سکے۔

طبی سیاحت کے فروغ میں Hyderabad Future

حکومت نے شہر کو عالمی طبی سیاحت کا مرکز بنانے کے لیے خصوصی پالیسی متعارف کرائی ہے۔ وزیر کے مطابق یہ اقدام وسیع تر روڈ میپ کا حصہ ہے جس کے ذریعے علاج، تحقیق اور جدید طبی سہولیات کو یکجا کیا جائے گا۔ یوں شہر صحت اور جدت دونوں شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر سکے گا۔

انہوں نے عالمی اداروں اور سرمایہ کاروں کو شراکت داری کی دعوت دی۔ ان کے مطابق اے آئی پر مبنی ادویاتی تحقیق، بایولوجکس مینوفیکچرنگ میں خودکاری، ڈیٹا پر مبنی پریسیژن میڈیسن، کمپیوٹیشنل بایولوجی اور بایو مینوفیکچرنگ 4.0 جیسے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ نتیجتاً ریاست عالمی صنعت کے قائدین کے ساتھ مل کر لائف سائنسز جدت کے اگلے مرحلے کی تشکیل چاہتی ہے۔

اختتاماً وزیر نے کہا کہ تلنگانہ عالمی صنعت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق پالیسیاں ترتیب دے رہا ہے۔ اگر مقررہ اہداف حاصل ہو جاتے ہیں تو حیدرآباد عالمی سائنسی قیادت کے نقشے پر مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس طرح یہ منصوبہ ریاست کی معیشت اور تحقیقی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لا سکتا ہے۔