Read in English  
       
Telangana Legacy

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر سڑک و عمارات کومٹی ریڈی وینکٹ ریڈی نے بدھ کے روز کہا کہ بھارت راشٹرا سمیتی کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کو خود کو ’’تلنگانہ کا باپ‘‘ کہلوانے کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔ ان کے مطابق، تلنگانہ کا قیام 1,100 سے زائد شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی ایک فرد کی کوشش۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی تشکیل ایک عوامی جدوجہد تھی، جو ذات، مذہب اور طبقے سے بالاتر ہو کر لڑی گئی۔ اس لیے، کسی ایک شخصیت کی جانب سے سارا کریڈٹ لینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ تاریخ کی توہین بھی ہے۔

موڈو چنتلا پلی اور علی آباد میں انتخابی مہم کے دوران، کومٹی ریڈی نے تحریکِ تلنگانہ میں جان قربان کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی لوگ درحقیقت تلنگانہ کے اصل معمار ہیں۔

شہداء ہی اصل معمار | Telangana Legacy

وزیر نے نلگنڈہ کے سری کانتاچاری اور کانسٹیبل کیشٹیّا جیسے نوجوانوں کا حوالہ دیا، جنہوں نے تحریک کے دوران اپنی جان قربان کی۔ ان کے مطابق، ان قربانیوں کو نظر انداز کر کے خود ستائی کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

مزید یہ کہ انہوں نے واضح کیا کہ تلنگانہ کی تحریک کسی ایک لیڈر کی نہیں بلکہ لاکھوں عوام کی اجتماعی جدوجہد تھی۔ لہٰذا، اس جدوجہد کو ذاتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔

ریاستی قیام اور سیاسی تنقید | Telangana Legacy

کومٹی ریڈی نے کانگریس قائد سونیا گاندھی کے کردار کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تلنگانہ کے نوجوانوں کی قربانیوں سے متاثر ہو کر ریاستی قیام کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول، یہی وہ قدم تھا جس نے تلنگانہ کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔

اسی دوران، انہوں نے کے چندر شیکھر راؤ اور ان کے خاندان پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اقتدار کے دوران انہوں نے ذاتی فائدہ اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ موڈو چنتلا پلی کو گود لینے کے باوجود بنیادی ترقی نہیں کی گئی، لیکن اس کے باوجود ’’تلنگانہ کا باپ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات میں اپیل

وزیر نے میڈچل حلقے کے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کے کونسلرز کو کامیاب بنائیں۔ ان کے مطابق، حقیقی ترقی اسی صورت ممکن ہے جب عوامی حکومت کو مضبوط مینڈیٹ ملے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزیر اعلیٰ ریونتھ ریڈی کی قیادت میں حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر وقت دستیاب رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے منتخب نمائندے عوام اور حکومت کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کریں گے۔

آخر میں، کومٹی ریڈی نے بی آر ایس پر بدعنوانی اور بدانتظامی کا الزام عائد کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ شفاف حکمرانی اور ہمہ گیر ترقی کے لیے کانگریس کا ساتھ دیں۔