Read in English  
       
Court Penalty

حیدرآباد: تلنگانہ ہائیکورٹ نے مہا ہوٹلز پراجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کرتے ہوئے قرار دیا کہ بار بار کی درخواستوں نے عدالتی وقت ضائع کیا ہے۔ جسٹس ناگیش بھیما پاکا نے فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو ہدایت دی کہ جرمانے کی رقم وزیراعظم ریلیف فنڈ میں جمع کرائی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی بلاجواز مقدمہ بازی کو روکنا ضروری ہے۔

مہا ہوٹلز نے ٹرائیڈنٹ ہوٹل کے انسالونسی عمل کو دوبارہ چیلنج کرتے ہوئے نئی درخواست دائر کی تھی، حالانکہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت میں نمٹا دیا گیا تھا۔ کمپنی نے ریاستی محکمہ سیاحت کی قیادت میں قائم کمیٹی آف کریڈیٹرز کے اُس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں کارپوریٹ انسالونسی ریزولوشن پروسیس کے تحت گولڈن جوبلی ہلز ہوٹل کے لیے بلیک اسٹون کی کمپنی BREP Asia II India Holding Company کی بولی منظور کی گئی تھی۔

عدالت کی وضاحت اور بلیک اسٹون کا قانونی حصول | Court Penalty

ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ بلیک اسٹون نے انسالونسی اینڈ بینکرپسی کوڈ (IBC) کے مطابق مقررہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ہوٹل حاصل کیا ہے۔ یہ کسی حکومتی صوابدیدی الاٹمنٹ کے تحت نہیں ہوا۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ یہ ٹینڈر پر مبنی عمل نہیں تھا، لہٰذا اسی بنیاد پر اسے چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مہا ہوٹلز ماضی میں نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (NCLT) سے بھی رجوع کر چکی ہے، جہاں معاہدے کی خلاف ورزی اور معاوضے سے متعلق مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔ عدالت کے مطابق تمام متعلقہ تنازعات وہیں طے کیے جائیں۔

درخواست ناقابلِ سماعت قرار | Court Penalty

ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ نئی درخواست قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے کیونکہ معاملہ پہلے ہی مناسب فورم پر زیرِ غور ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے دہرائے گئے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا اور درخواست کو خارج کر دیا۔