Read in English  
       
Hate Speech

حیدرآباد: وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ تلنگانہ حکومت نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کے لیے نیا قانون متعارف کرائے گی، جسے آئندہ اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ریاست میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔ لہٰذا حکومت اس معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتے گی۔

شمش آباد کے میٹرو کلاسک گارڈنز میں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوامی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے سخت کارروائی ضروری ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سماجی استحکام کی بنیاد قرار دیا۔

امن و ہم آہنگی پر زور | Hate Speech

ریونت ریڈی نے آزادی کی تحریک میں جمعیۃ علماء ہند کے کردار کی ستائش کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم اکثریت اور اقلیت کی تقسیم کے بغیر لوگوں کو متحد کرنے کے لیے مسلسل کام کرتی رہی ہے۔ چنانچہ ایسی کوششیں سماج میں اعتماد کو فروغ دیتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اسی دوران انہوں نے یقین دلایا کہ سرکاری نظم و نسق میں تمام مذاہب کو یکساں احترام دیا جائے گا۔ نتیجتاً انہوں نے ہر طبقے سے عوامی حکومت کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔

قانونی اقدامات اور سیاسی پیغام | Hate Speech

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے مضبوط قوانین ناگزیر ہیں، کیونکہ ایسے اقدامات سے ریاست میں امن و سکون برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا اور جمعیۃ علماء ہند نے بھی قومی تعمیر میں سبھی برادریوں کے تعاون سے نمایاں خدمات انجام دیں۔

انہوں نے انتخابات میں حمایت پر تنظیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں نے کانگریس حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت مسلم آبادی سے متعلق اعداد و شمار سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے لیے تیار ہے، جو گزشتہ سال ذات پر مبنی مردم شماری کے دوران جمع کیے گئے تھے۔

ریونت ریڈی نے چار فیصد ریزرویشن کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اس کوٹہ کو ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اس ریزرویشن کا آغاز کیا تھا اور موجودہ حکومت اسے سختی سے نافذ کرے گی۔ بالآخر انہوں نے کہا کہ امن، قانون اور نظم و ضبط سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہیں، جبکہ اقتدار ہمیشہ کے لیے کسی کے پاس نہیں رہتا۔