Read in English  
       
Civic Polls

حیدرآباد: حکمران کانگریس پارٹی کے تلنگانہ کے بلدیاتی انتخابات میں نمایاں برتری حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ریسرچ ایجنسی پیپلز پلس کے ایگزٹ پول کے مطابق کانگریس میونسپلٹیز اور میونسپل کارپوریشنز میں مضبوط پوزیشن میں ہے۔

116 میونسپلٹیز اور 7 میونسپل کارپوریشنز کے لیے ووٹنگ بدھ کو مکمل ہوئی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 13 فروری کو ہوگی۔ اس انتخاب میں کانگریس، بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان سہ رخی مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

میونسپلٹیز میں سبقت | Civic Polls

سروے کے مطابق کانگریس کو 68 سے 76 میونسپلٹیز میں کنٹرول مل سکتا ہے۔ منچریال، رام گنڈم، محبوب نگر، نلگنڈہ اور کوتہ گوڈم جیسے شہری علاقوں میں پارٹی کو واضح برتری حاصل ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

رام گنڈم میں کانگریس کے 30 سے 34 وارڈز جیتنے کا امکان ہے، جبکہ بی آر ایس 16 سے 20 تک محدود رہ سکتی ہے۔ منچریال میں کانگریس 39 سے 43 وارڈز لے سکتی ہے۔ اسی طرح کوتہ گوڈم میں 28 سے 34 وارڈز کی پیش گوئی کی گئی ہے، جہاں سی پی آئی دوسرے نمبر پر رہ سکتی ہے۔

اپوزیشن کو جھٹکا| Civic Polls

ایگزٹ پول کے مطابق بی آر ایس کسی بھی میونسپل کارپوریشن میں اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی۔ اسے مجموعی طور پر 29 سے 36 میونسپلٹیز ملنے کا امکان ہے، جبکہ بی جے پی 3 سے 5 اور اے آئی ایم آئی ایم ایک تک محدود رہ سکتی ہے۔

نظام آباد میں بی جے پی کو 26 سے 31 وارڈز ملنے کی پیش گوئی ہے، جبکہ کانگریس کو 10 سے 16 اور اے آئی ایم آئی ایم کو 8 سے 12 وارڈز مل سکتے ہیں۔ کریم نگر میں بی جے پی 24 سے 29 وارڈز جیت سکتی ہے، جب کہ کانگریس 14 سے 16 اور بی آر ایس 10 سے 12 وارڈز تک محدود رہ سکتی ہے۔

ووٹ شیئر کے اندازوں کے مطابق کانگریس 36 فیصد کے ساتھ آگے ہے۔ بی آر ایس کو 29.7 فیصد، بی جے پی کو 19.3 فیصد اور اے آئی ایم آئی ایم کو 2 فیصد ووٹ ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

وارڈ سطح پر کانگریس کو 1,210 سے 1,290 نشستیں مل سکتی ہیں۔ بی آر ایس کو 860 سے 930، بی جے پی کو 250 سے 270، اے آئی ایم آئی ایم کو 35 سے 44، سی پی آئی کو 12 سے 17 اور سی پی ایم کو 10 سے 14 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف اندازے ہیں اور حتمی نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔