Read in English  
       
Activist Justice

حیدرآباد: تلنگانہ جاگروتی کے زیر اہتمام باغ لنگم پلی آر ٹی سی کلیان منڈپم میں تلنگانہ جہد کاروں کی آتما گورو سبھا منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں 10 سے زائد تنظیموں کے نمائندوں اور بڑی تعداد میں جہد کاروں نے شرکت کی۔ مقررین نے الزام عائد کیا کہ ریاست کے قیام کے بعد بھی جہد کاروں اور شہداء کے خاندانوں کو انصاف نہیں ملا۔

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ مخالف طاقتوں کے اتحاد کے دور میں تلنگانہ جے اے سی کی تشکیل ایک تاریخی قدم تھا۔ طویل جدوجہد کے بعد ریاست حاصل کی گئی، تاہم توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ عزت، معاشی استحکام اور سیاسی مواقع کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی سرزمین قربانیوں کی امین رہی ہے۔ رام جی گونڈ سے لے کر کمرم بھیم تک اور دوڈی کمریا سے بے شمار نوجوانوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اسی لیے جہد کاروں کے ساتھ انصاف ناگزیر ہے۔

بجٹ میں واضح گنجائش کا مطالبہ | Activist Justice

کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ 26 فروری سے اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ لہٰذا بجٹ میں جہد کاروں کی شناخت، فلاحی بورڈ کے قیام اور حقوق کے تحفظ کے لیے واضح گنجائش رکھی جائے۔ انہوں نے کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا کہ انتخابی وعدے فوری پورے کیے جائیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک کی روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ مزید برآں انہوں نے پروفیسر کودنڈا رام اور آکونوری مرلی سے بھی سوال اٹھانے کا مطالبہ کیا کہ وعدوں پر عمل کیوں نہیں ہو رہا۔

نئی تحریک اور 20 فیصد تحفظات کا اعلان | Activist Justice

کویتا نے کہا کہ اگر حکومت جہد کاروں کی شناخت سے انکار کرے گی تو متحد ہو کر آواز بلند کی جائے گی۔ اسی مقصد کے لیے ایک ایپ متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے ناموں کا اندراج ہوگا اور ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ خانگی اداروں میں تلنگانہ کے نوجوانوں کو 20 فیصد تحفظات دیے جائیں۔ ساتھ ہی کہا کہ تلنگانہ جاگروتی کی جدوجہد سیاسی نہیں بلکہ ریاست کے وجود کے تحفظ کی علامت ہے۔ آخر میں مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جہد کاروں اور شہداء کے خاندانوں سے کیے گئے وعدوں کی فوری تکمیل یقینی بنائی جائے۔