Read in English  
       
Revenue Discrimination

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر زراعت تُملّا ناگیشور راؤ نے کہا ہے کہ جنوبی ریاستوں کو مرکز کی مالی پالیسیوں کے تحت مسلسل معاشی ناانصافی کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو معاشی عدم توازن کے بجائے سیاسی جانبداری قرار دیا اور کہا کہ یہ طرزِ عمل وفاقی اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ایک جانب ’’وکست بھارت‘‘ کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب جنوبی ریاستوں، بالخصوص تلنگانہ، کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق، یہ پالیسیاں کوآپریٹو فیڈرلزم کے بنیادی تصور سے متصادم ہیں اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کر رہی ہیں۔

وزیر کے مطابق 2018-19 سے 2022-23 کے درمیان مرکز نے ملک بھر سے مجموعی طور پر 90.80 لاکھ کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا۔ اس پانچ سالہ مدت میں جنوبی ریاستوں نے 22.86 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا حصہ ڈالا، جو کل وصولیوں کا ایک چوتھائی سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

اس نمایاں شراکت کے باوجود، جنوبی ریاستوں کو محض 16.3 فیصد رقم واپس ملی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال مالی انصاف کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس سے ریاستی معیشتوں پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے روپے کے بدلے روپے کی بنیاد پر موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ریاستوں کو ہر ادا کیے گئے ایک روپے کے بدلے اوسطاً صرف 30 پیسے ملے۔ اس کے برعکس، بہار اور اتر پردیش جیسی ریاستوں کو تقریباً 4 روپے فی ادا شدہ روپے کی شرح سے وسائل فراہم کیے گئے۔

تلنگانہ کے اعداد و شمار سے امتیاز نمایاں | Revenue Discrimination

وزیر نے دسمبر میں پارلیمنٹ میں دیے گئے جوابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024-25 کے دوران تلنگانہ نے 1,33,208 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا۔ اس کے مقابلے میں، مرکز نے 27,050 کروڑ روپے بطور ٹیکس ڈیولوشن، 7,913 کروڑ روپے گرانٹس کی صورت میں اور 16,762 کروڑ روپے مرکزی اسکیموں کے تحت جاری کیے۔

یوں مجموعی طور پر 51,725 کروڑ روپے ریاست کو موصول ہوئے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس رقم میں زیادہ تر اسکیم سے مشروط فنڈز شامل ہیں، جبکہ آزادانہ استعمال کے قابل وسائل اس سے کہیں کم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جی ایس ٹی سے متعلق تبدیلیوں کے باعث تلنگانہ کو سالانہ تقریباً 8,000 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ 16ویں مالیاتی کمیشن کی جانب سے ریونیو ڈیفیسٹ گرانٹس کو نظر انداز کرنے سے ریاستوں کی مالی خودمختاری مزید کمزور ہوئی ہے۔

سیاسی جانبداری کا الزام | Revenue Discrimination

تُملّا ناگیشور راؤ نے خبردار کیا کہ شعبہ جاتی اور خصوصی گرانٹس میں کٹوتی کے نتیجے میں تلنگانہ کو مزید 5,000 کروڑ روپے تک کا نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ تکنیکی نہیں بلکہ سراسر سیاسی ہے، جس کا مقصد مالی طور پر مضبوط ریاستوں کو کمزور بنانا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ غیر بی جے پی زیرِ انتظام جنوبی ریاستوں کے ساتھ یہ امتیاز زیادہ نمایاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستیں وفاقی نظام میں برابر کی شراکت دار ہیں، کسی کے ماتحت نہیں، اور ریونیو پیدا کرنے والی ریاستوں کے ساتھ منصفانہ سلوک قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیر نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ اور مرکزی وزرا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے گزشتہ 10 برسوں میں اس سنگین مسئلے کو اٹھانے میں ناکامی دکھائی۔ ان کے مطابق، قومی شاہراہوں پر ہونے والے اخراجات کو ریاستی مدد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام سے ٹول ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ زرعی قرض معافی، رعیتو بھروسہ، فصل خریداری، آبپاشی منصوبوں اور مفت بجلی جیسے اقدامات پر بھاری اخراجات کر رہا ہے۔ تاہم، مرکز سے منصفانہ حصہ نہ ملنا ریاست کی معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

آخر میں، انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کی کوئی بھی تجویز قبول نہیں کی گئی۔ اگر یہ سیاسی سزا جاری رہی تو ’’وکست بھارت‘‘ محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔ انہوں نے تلنگانہ کے بی جے پی قائدین سے اپیل کی کہ وہ بھی ریاست کے جائز حق کے لیے آواز بلند کریں۔