Read in English  
       
Owaisi on Malegaon Verdict

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے 2008 مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تمام ملزمان کی بریت کو “مایوس کن” قرار دیا اور اس فیصلے کا الزام جان بوجھ کر کمزور کی گئی تفتیش اور مقدمہ بازی پر عائد کیا۔

سماجی رابطہ پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر Owaisi on Malegaon Verdictنے لکھا کہ اس دھماکے میں چھ نمازی جاں بحق اور قریب 100 زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے اسے مذہبی بنیاد پر کیا گیا حملہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ 17 برس بعد عدالت نے تمام ملزمان کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر بری کر دیا۔ اویسی نے سوال کیا کہ آیا مودی اور فڈنویس حکومتیں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی، جیسے 2006 ممبئی لوکل ٹرین دھماکوں کے کیس میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے لکھا: “چھ افراد کو کس نے قتل کیا؟”

اویسی نے سابق اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالیان کا حوالہ دیا جنہوں نے 2016 میں انکشاف کیا تھا کہ این آئی اے نے ان سے کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف نرم رویہ اختیار کریں۔ اویسی نے مزید کہا: “2017 میں این آئی اے نے سادھوی پرگیہ کو بری کرانے کی کوشش کی، اور 2019 میں وہ بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ بن گئیں۔”

انہوں نے مرحوم ہیمنت کرکرے کو بھی یاد کیا، جو مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے اس وقت کے سربراہ تھے اور بعد میں 26/11 ممبئی حملوں میں مارے گئے۔ اویسی نے کہا: “کرکرے نے اس سازش کا پردہ فاش کیا تھا۔ آج وہی بی جے پی ایم پی دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی بددعا سے کرکرے کی موت ہوئی۔”

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا این آئی اے اور اے ٹی ایس افسران پر اس “کمپرومائزڈ تحقیقات” کے لیے کبھی کوئی کارروائی ہوگی؟ اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا: “شاید ہمیں اس سوال کا جواب معلوم ہے۔ یہ ہے مودی حکومت کا ‘تاریخ ساز انسداد دہشت گردی’ ماڈل۔”

انہوں نے آخر میں کہا: “دنیا یاد رکھے گی کہ اس حکومت نے ایک دہشت گردی کے ملزم کو رکن پارلیمنٹ بنایا۔”