Read in English  
       
Case Files

حیدرآباد: نامپلی میں فورنسک سائنس لیبارٹری میں پیش آنے والی آتشزدگی کے معاملے پر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شیو دھر ریڈی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی اہم مقدمے کی فائلیں تباہ نہیں ہوئیں۔ انہوں نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں حساس ریکارڈ کے نقصان کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق ایسی اطلاعات عوام میں غیر ضروری تشویش پیدا کر رہی ہیں۔

منگل کے روز ڈی جی پی آفس میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیو دھر ریڈی نے کہا کہ واقعے کی مکمل جانچ جاری ہے۔ اسی دوران افسران آگ سے ہونے والے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آگ لگنے سے ایف ایس ایل کا سرور روم متاثر ہوا، تاہم ڈیٹا مکمل طور پر ضائع نہیں ہوا۔ چنانچہ تکنیکی ٹیموں نے بیک اپ کے ذریعے معلومات کی بازیابی کا عمل شروع کر دیا ہے اور یہ کام مسلسل جاری ہے۔

اہم مقدمات محفوظ | Case Files

شیو دھر ریڈی نے واضح کیا کہ ووٹ کے بدلے نوٹ معاملے سے متعلق تمام فائلیں محفوظ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس سے جڑا مکمل ریکارڈ 2021 میں ہی عدالت کے حوالے کر دیا گیا تھا، اس لیے آگ سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

دیگر مقدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فون ٹیپنگ کیس میں فورنسک رپورٹس پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہیں۔ مزید یہ کہ سات دیگر اہم مقدمات سے متعلق ڈیٹا بھی بحال کیا جا رہا ہے، جس پر ماہرین شب و روز کام کر رہے ہیں۔

افواہوں سے گریز کی اپیل | Case Files

ڈی جی پی کے مطابق محکمہ تکنیکی ماہرین کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات محفوظ کی جا سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تصدیق کے بغیر پھیلائی جانے والی خبریں نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

آخرکار، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے جانچ مکمل ہوگی، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ فی الحال، کسی بھی حساس مقدمے کے ریکارڈ کے ضائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔