Read in English  
       
Ward Postponement

حیدرآباد: نارائن پیٹ ضلع کی مکتھل بلدیہ کے وارڈ نمبر 6 میں ووٹنگ سے قبل ایک امیدوار کی خودکشی کے بعد انتخابی عمل روک دیا گیا۔ واقعے نے مقامی سیاست میں ہلچل مچا دی، جبکہ انتخابی حکام نے فوری طور پر پولنگ ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے بعد علاقے میں غم اور بے چینی کی فضا پائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق 48 سالہ مہادیواپا، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار تھے، منگل کی علی الصبح اپنے گھر میں پھانسی کے ذریعے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ چنداپور گاؤں کے رہنے والے تھے اور بلدیاتی الیکشن میں سرگرم طور پر حصہ لے رہے تھے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی تلنگانہ کے صدر رام چندر راؤ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس سانحے سے صدمے میں ہے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو نہایت افسوسناک قرار دیا۔

انتخابی عمل میں رکاوٹ | Ward Postponement

امیدوار کی موت کے بعد ریٹرننگ افسر شیوائیا نے وارڈ نمبر 6 کے انتخاب کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انتخابی قوانین کے مطابق اگر پولنگ کے دوران کسی تسلیم شدہ جماعت کا امیدوار انتقال کر جائے تو ووٹنگ روکنا لازمی ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر تحریری احکامات جاری کیے گئے۔

ریٹرننگ افسر کے مطابق ریاستی الیکشن کمیشن جلد ہی نئے شیڈول کا اعلان کرے گا۔ اس دوران انتخابی سرگرمیاں معطل رہیں گی تاکہ ضابطوں کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ حکام تمام قانونی تقاضے پورے کرنے میں مصروف ہیں۔

تحقیقات جاری | Ward Postponement

دوسری جانب پولیس خودکشی کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ اگرچہ ابھی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم اس واقعے نے بلدیاتی انتخابات پر گہرا سایہ ڈال دیا ہے۔ مقامی حلقوں میں سیاسی دباؤ اور انتخابی ماحول پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

آخرکار، یہ سانحہ اس بات کی یاد دہانی بن گیا ہے کہ انتخابی سیاست میں ذہنی دباؤ کس قدر سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں ریاستی الیکشن کمیشن کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں۔