Read in English  
       
NextBit

حیدرآباد: پولیس نے حیدرآباد میں ایک کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ ایپ کے آپریٹر کو گرفتار کر لیا ہے جس پر سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کا الزام ہے۔ اس کارروائی نے تلنگانہ بھر میں پھیلتی ان اسکیموں کی سنگینی کو بے نقاب کیا ہے۔ گرفتار شخص کی شناخت ہمانشو کے طور پر ہوئی ہے جو “NextBit” نامی ایپ چلا رہا تھا اور تیز منافع کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کو راغب کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق ہمانشو کو ایک ہوٹل میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اپنی ایپ کی تشہیر کر رہا تھا۔ شکایات میڈپلّی پولیس اسٹیشن کے ذریعے رچہ کونڈہ کمشنریٹ کو موصول ہوئیں۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ شکایت درج کرانے والوں میں بعض وہ لوگ بھی شامل تھے جو خود حریف ایپس چلاتے تھے اور گرفتاری کے وقت بھی موجود رہے۔

پولیس ریمانڈ رپورٹ کے مطابق تقریباً 400 سرمایہ کار اس اسکیم کا شکار ہوئے اور ان سے قریب 19 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا۔ متاثرین کو 5 تا 10 افراد کے گروپ میں بانٹ کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا گیا اور یقین دلایا گیا کہ ان کی رقم زمین اور کرپٹو کرنسی کریڈٹس سے محفوظ ہے۔ کئی معاملات میں 20 لاکھ روپئے مالیت کی زمین کو 50 لاکھ دکھا کر رہن ظاہر کیا گیا۔ متاثرین کے اکاؤنٹس میں ڈجیٹل ڈالرز بھی جمع کرائے گئے تاکہ منافع کا تاثر دیا جا سکے۔ مطلوبہ رقم اکٹھی ہوتے ہی منتظمین غائب ہو گئے اور بعض کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم پرانے دھوکہ دہی کے طریقوں جیسا ہے جیسے لاٹری، بیٹنگ ایپس اور آن لائن گیمز، جو عوام کی آسان پیسہ کمانے کی خواہش کو نشانہ بناتے ہیں۔ حکام نے وضاحت کی کہ اگرچہ کرپٹو ٹریڈنگ غیر قانونی نہیں ہے، مگر یہ انتہائی پرخطر ہے اور صرف جانکاری رکھنے والے ہی اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمانشو کی گرفتاری میں کاروباری رقابت نے بھی کردار ادا کیا۔ حریف ایپ آپریٹرز جو NextBit کی بڑھتی مقبولیت سے ناراض تھے، شکایات سامنے لانے میں سرگرم رہے۔ حالانکہ کئی دیگر ایپس اسی نوعیت کی اسکیمیں چلا رہی ہیں، مگر اب تک کسی اور کے خلاف پولیس کارروائی نہیں ہوئی۔

بتایا گیا ہے کہ غیر منقسم کریم نگر خطہ اس طرح کی دھوکہ دہی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں راجنا سرسلہ، جگتیال اور کریم نگر اضلاع میں سب سے زیادہ متاثرین درج ہوئے ہیں۔ اس سے قبل جی بی آر کرپٹو اسکیم میں 95 کروڑ روپئے اور میٹا اسکیم میں 100 کروڑ روپئے کے گھپلوں کی شکایات آچکی ہیں۔ حکام نے کہا کہ موثر نگرانی نہ ہونے کے باعث غیر رجسٹرڈ ایپس مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غیر مصدقہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔