Read in English  
       
Cash Seizure

حیدرآباد: شہر میں معمول کی گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی، جب گوشہ محل پولیس نے 76.87 لاکھ روپئے نقد رقم ضبط کر لی۔ یہ کارروائی پیر کی شام کی گئی، جس کے بعد علاقے میں خاصی گہماگہمی دیکھی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق یہ رقم مشتبہ حالات میں لے جائی جا رہی تھی۔

یہ واقعہ 9 فروری کو گن باغ کالونی میں گوکل گولڈ الیکٹرک آئٹمز کی دکان کے قریب پیش آیا۔ دورانِ چیکنگ پولیس نے دو دو پہیہ گاڑیوں پر سوار تین افراد کو مشکوک انداز میں حرکت کرتے دیکھا۔ چنانچہ، انہیں روک کر تلاشی لی گئی، جو اس کارروائی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔

تلاشی کے دوران تین الگ الگ بیگس سے بھاری مقدار میں نقد رقم برآمد ہوئی۔ بعد ازاں گنتی کے بعد مجموعی رقم 76,87,650 روپئے نکلی۔ اس پیش رفت کے بعد پولیس نے فوری طور پر تینوں افراد کو حراست میں لے لیا اور مزید کارروائی کے لیے پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔

پولیس چیکنگ میں بڑی برآمدگی | Cash Seizure

پولیس نے زیرِ حراست افراد کی شناخت جیوتی رام، گنپتی رام اور مہندر کے طور پر کی ہے۔ دورانِ تفتیش تینوں افراد رقم کے ماخذ کے بارے میں متضاد بیانات دیتے رہے۔ مزید یہ کہ وہ اس خطیر رقم کی منتقلی سے متعلق کوئی دستاویز پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔

اسی بنیاد پر پولیس نے پوری رقم ضبط کر لی۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ رقم کو مزید جانچ کے لیے محکمہ انکم ٹیکس کے حوالے کیا جائے گا۔ اس عمل کے ذریعے رقم کے اصل ماخذ اور مقصد کا تعین کیا جائے گا۔

غیر قانونی رقم پر کڑی نظر | Cash Seizure

گوشہ محل پولیس انسپکٹر نے خبردار کیا کہ غیر قانونی نقد رقم کی نقل و حمل کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

آخرکار، اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ شہر میں غیر قانونی نقدی کی نقل و حرکت ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ تاہم، پولیس کی مستعدی ایسے عناصر کے لیے واضح پیغام ہے کہ قانون سے بچنا آسان نہیں۔