Read in English  
       
Plastic Reduction

حیدرآباد: پلاسٹک کے بڑھتے استعمال پر قابو پانے کے لیے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے شہریوں سے روزمرہ زندگی میں چھوٹی مگر مؤثر تبدیلیاں اپنانے کی اپیل کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کو صرف جمع کرنے کے بجائے اس کے استعمال کو ابتدا ہی میں کم کرنا زیادہ مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ اسی لیے شہریوں کی عادات پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

جی ایچ ایم سی کے مطابق معمول کے کچرا منتقلی مراکز پر بڑی مقدار میں پلاسٹک دیکھا جا رہا ہے۔ کیری بیگس، کھانے کے کور، ڈسپوزیبل ڈبے اور پیکجنگ مواد کچرے کا بڑا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تر روزمرہ استعمال کا نتیجہ ہے، جسے شہری آسانی سے کم کر سکتے ہیں۔

ادھر، بلدیاتی ادارہ صرف کچرا سنبھالنے تک محدود نہیں رہنا چاہتا۔ اسی لیے اب توجہ اس بات پر دی جا رہی ہے کہ پلاسٹک استعمال ہی نہ ہو۔ اس مقصد کے تحت گھروں، دفاتر اور سفر کے دوران متبادل طریقے اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

روزمرہ عادات میں تبدیلی | Plastic Reduction

جی ایچ ایم سی نے شہریوں کو پلاسٹک کے تھیلوں کے بجائے جوٹ یا کپڑے کے بیگ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اسی طرح دفاتر، اسکولوں اور سفر کے دوران اسٹیل یا دوبارہ استعمال ہونے والے ٹفن باکس اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک بوتلوں کے بجائے ریفیل ہونے والی بوتلیں استعمال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، حکام نے اسٹیل، شیشہ اور کاغذ جیسے پائیدار مواد کو ترجیح دینے کی بھی اپیل کی ہے۔ ان سادہ اقدامات سے پلاسٹک سڑکوں، نالیوں، لینڈ فلز اور کچرا مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔ نتیجتاً، زمین اور پانی کے وسائل محفوظ رہ سکتے ہیں۔

شہری شراکت ضروری | Plastic Reduction

جی ایچ ایم سی نے غیر سرکاری تنظیموں، ریزیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشنز، تعلیمی اداروں اور عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پلاسٹک میں کمی سے متعلق آگاہی کو مزید پھیلائیں۔ خاص طور پر کمیونٹی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیغام عام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

آخرکار، حکام کا کہنا ہے کہ اگر ہر شہری اپنی سطح پر ذمہ داری لے تو شہر کو صاف، صحت مند اور ماحول دوست بنانا ممکن ہے۔ اس مہم کا مقصد صرف صفائی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل یقینی بنانا ہے۔