Read in English  
       
Banakacharla Project

حیدرآباد: بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے آندھرا پردیش حکومت کے مجوزہ Banakacharla Projectکے خلاف فوری احتجاج کی اپیل کرتے ہوئے اسے تلنگانہ کے آبپاشی مفادات کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔

منگل کو اپنے ایراویلی فارم ہاؤس پر پارٹی قائدین سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ یہ پراجیکٹ ہر حال میں روکا جانا چاہیے اور پارٹی کارکنان کو مقامی سطح پر احتجاج شروع کرنا ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس زیر قیادت ریاستی حکومت جان بوجھ کر آندھرا پردیش کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور کسان برادری سے غداری کی مرتکب ہو رہی ہے۔

انہوں نے خاص طور پر کالیشورم لفٹ پراجیکٹ کی بندش اور کنّی پلی پمپ ہاؤس سے پانی نہ اٹھانے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے سی آر نے مطالبہ کیا کہ ریاست بھر کے ذخائر، تالاب اور کنٹوں کو بھرنے کے لیے فوری طور پر پانی چھوڑا جائے۔

انہوں نے یوریا کی قلت اور زرعی پالیسی میں ناکامی کو حکومت کی ناقابل معافی غفلت قرار دیا اور کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے دیہی ترقی اور صفائی کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

کے سی آر نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر آندھرا کے لیڈر چندرابابو نائیڈو اور مرکزی وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی ایک دوسرے پر الزامات لگا کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں جبکہ حقیقی حکمرانی کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے پارٹی قائدین سے کہا کہ حکومت کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں اور بی آر ایس کی ذیلی تنظیمات کو مضبوط کریں تاکہ کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کی جا سکے۔

کے سی آر نے کہا کہ صرف بی آر ایس ہی ہمیشہ تلنگانہ کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

اس حکمت عملی اجلاس میں کے ٹی راما راؤ، ہریش راؤ، جگدیش ریڈی اور کئی سابق وزراء نے شرکت کی۔