Read in English  
       
Alliance Victory

حیدرآباد: منچریال ضلع کے کیاتھن پلی میونسپل انتخابات میں حکمراں کانگریس کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ بی آر ایس اور سی پی آئی کے اتحاد نے 22 میں سے 14 وارڈز جیت کر بلدیہ پر کنٹرول حاصل کر لیا۔

یہ بلدیہ وزیر ویویک وینکٹاسوامی کے حلقۂ انتخاب میں آتی ہے، جو محنت و روزگار، تربیت و فیکٹریز اور کانکنی و ارضیات کے قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ریاست میں کانگریس برسر اقتدار ہے، تاہم اپوزیشن اتحاد نے مقامی سطح پر اپنی طاقت منظم انداز میں استعمال کی۔

بی آر ایس اور سی پی آئی نے قبل از انتخاب اتحاد قائم کیا تھا۔ بی آر ایس نے 10 وارڈز جبکہ سی پی آئی نے 4 وارڈز میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے مقابلے میں کانگریس صرف 7 وارڈز جیت سکی، جبکہ ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا۔

اتحاد کی حکمت عملی غالب | Alliance Victory

اتحاد کی عددی برتری کے باعث چیئرپرسن کا عہدہ اپوزیشن کے حصے میں گیا۔ چنانچہ کانگریس ایک اہم بلدیہ میں اپنی پوزیشن برقرار نہ رکھ سکی۔ اس نتیجے نے مقامی سیاست میں نئی صف بندی کو جنم دیا۔

سابق رکن اسمبلی بالکا سمن نے انتخابی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے دباؤ کے باوجود تنظیمی ڈھانچے کو متحرک رکھا۔ مزید برآں انہوں نے حلقے میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے منظم مہم چلائی، جس سے اتحاد کو فائدہ پہنچا۔

کانگریس کی حکمت عملی ناکام | Alliance Victory

چونکہ یہ بلدیہ وزیر کے حلقے میں شامل ہے، اس لیے کانگریس نے اسے وقار کا مسئلہ بنایا تھا۔ تاہم پارٹی سی پی آئی کے ساتھ مقامی سطح پر مفاہمت نہ کر سکی، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہوئی۔

اس کے علاوہ آزاد امیدواروں کی موجودگی نے بھی کئی وارڈز میں ووٹ تقسیم کیے۔ نتیجتاً کانگریس کو قریبی مقابلوں میں نقصان اٹھانا پڑا۔

اگرچہ کانگریس ریاست میں حکومت چلا رہی ہے، لیکن کیاتھن پلی میں یہ شکست مقامی قیادت کے لیے تشویش کا باعث بنی۔ مجموعی طور پر اس نتیجے نے واضح کیا کہ بلدیاتی سیاست میں قبل از انتخاب اتحاد فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔