Read in English  
       
BJP Suicide

حیدرآباد: تلنگانہ کے ماہی پروری کے وزیر واکٹی سری ہری نے مکھتل میونسپلٹی میں بی جے پی امیدوار کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں کسی بھی قسم کے کردار کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے خلاف لگائے گئے الزامات ثابت ہو جائیں تو وہ کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جمعرات کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ انہیں مہادیواپا کی موت سے جوڑنا بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے کبھی مہادیواپا سے بات نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان کا کال ریکارڈ بھی جانچا جا سکتا ہے۔

وزیر کا کہنا تھا کہ اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق اہل خانہ نے رائے دی ہے کہ مہادیواپا انتخابی دباؤ کے باعث خوف کا شکار تھے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کی اہمیت | BJP Suicide

واکٹی سری ہری نے کہا کہ حکام موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ذریعے طے کریں گے۔ اسی لیے انہوں نے قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، تب تک کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت قانونی عمل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔ بلکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر سچ سامنے لایا جائے گا۔

تحقیقات جاری، قانونی عمل پر زور | BJP Suicide

وزیر نے ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزید برآں انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ہر قسم کی جانچ میں تعاون کریں گے۔ ان کے مطابق اہل خانہ نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی فضا کے باعث دباؤ موجود تھا۔

ادھر حکام قانون کے مطابق تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نتیجتاً پوسٹ مارٹم رپورٹ کو اس معاملے میں کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور اسی کی بنیاد پر آئندہ پیش رفت متوقع ہے۔