Read in English  
       
Rajendra Merger

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی نے جی ایچ ایم سی میں مجوزہ راجندر نگر انضمام کے خلاف احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ حکومت نے عوامی مشاورت کے بغیر فیصلہ کیا۔ پارٹی رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ مضافاتی علاقوں کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں شامل کرنے سے پہلے رائے عامہ کیوں نہیں لی گئی۔

نتیجتاً بی آر ایس کارکنوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا پتلا نذرِ آتش کیا اور فوری طور پر فیصلے کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کانگریس حکومت نے سیاسی فائدے کے لیے یکطرفہ اقدام کیا ہے۔

سیاسی ردعمل اور الزامات | Rajendra Merger

بی آر ایس قائدین نے یاد دلایا کہ ماضی میں اسی جماعت نے حیدرآباد کو گریٹر شہر میں وسعت دی تھی۔ تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ قدم شہر کو عملاً تین کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

ان کے مطابق ایسی تنظیم نو شہری ترقی کو سست کر سکتی ہے اور انتظامی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بہتر حکمرانی کے لیے ہے، لیکن پارٹی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ عوام اس منصوبے کی حمایت نہیں کرتے۔

سرمایہ کاری اور شہری مستقبل | Rajendra Merger

بی آر ایس نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں حیدرآباد نے آئی ٹی، فارما اور رئیل اسٹیٹ شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری حاصل کی۔ لہٰذا شہر کے ڈھانچے میں تبدیلی سے ترقی کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پارٹی نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل عوامی رائے لی جائے۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے نظرثانی نہ کی تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔