Read in English  
       
Heritage Book

حیدرآباد: چیف سیکریٹری کے رام کرشنا راؤ نے بدھ کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر تلنگانہ سکریٹریٹ میں ’’جویلز آف آصف جاہیز – دی گلوری آف ورنگل‘‘ نامی کافی ٹیبل بُک کی رونمائی کی۔ انہوں نے اپنے چیمبر میں کتاب جاری کی اور مصنف کنیکانتی وینکٹا رمانا کی اس کوشش کو سراہا کہ انہوں نے سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تحقیق مکمل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام محنت اور عزم کی عمدہ مثال ہے۔

ورنگل کے تاریخی ورثے کا جامع احاطہ | Heritage Book

چیف سیکریٹری نے ذکر کیا کہ کتاب میں ورنگل میں آصف جاہی دور کے اہم تعمیراتی مقامات کا جامع تذکرہ شامل ہے۔ ان کے مطابق مختلف صوبہ داروں کے واضح احوال بھی پیش کیے گئے ہیں، جس سے محققین اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو مستند معلومات مل سکتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مواد مربوط انداز میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اسپیشل کمشنر سی ایچ پریانکا نے بھی تقریب میں شرکت کی اور کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ورنگل کاکتیہ دور کی پہچان رکھتا ہے، مگر شہر میں آصف جاہی دور کی نمایاں عمارتیں بھی موجود ہیں جن میں قاضی پیٹ ریلوے اسٹیشن اور دھرماساگر فلٹر بیڈ شامل ہیں، جو اب مشن بھاگیرتھا کے تحت فعال ہے۔

طلبہ اور محققین کے لیے قیمتی حوالہ | Heritage Book

تقریب میں یہ بھی بتایا گیا کہ آصف جاہی دور میں ورنگل صوبہ موجودہ عادل آباد، کریم نگر، ورنگل اور کھمم کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا تھا۔ کتاب میں ان علاقوں کے صوبہ داروں کے حالات کے ساتھ نایاب تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں، جن سے تاریخی پس منظر کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔

چیف سیکریٹری نے کہا کہ یہ اشاعت عوام میں تاریخی شعور بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق کتاب ہمارے ماضی کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کرتی ہے، جس سے طلبہ، ماہرینِ ورثہ اور محققین کو یکجا معلومات ملتی ہیں۔