Read in English  
       
Transport Reforms

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ کیبس اینڈ بس آپریٹرز ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر سید نظام الدین کو ہفتے کے روز متفقہ طور پر دوبارہ منتخب کر لیا گیا۔ ریاست بھر سے آئے ہوئے اراکین نے ٹرانسپورٹ شعبے کو درپیش اہم مسائل کے حل میں ان کی قیادت کو سراہا اور اعتماد کا اظہار کیا۔

انتخاب کے بعد خطاب کرتے ہوئے سید نظام الدین نے کہا کہ تلنگانہ ٹورز اینڈ ٹریولز بس اونرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کے باعث ٹیکس سے متعلق کئی پیچیدہ مسائل حل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کے گوپال ریڈی کی قیادت میں دونوں تنظیموں نے حکومت کے سامنے مشترکہ مطالبات رکھے، جس کے نتیجے میں پالیسی سطح پر مثبت پیش رفت ممکن ہوئی۔

ضلعی ٹیکس اور شہری آپریٹرز کا مسئلہ | Transport Reforms

سید نظام الدین نے وضاحت کی کہ 2014 کے بعد تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد 10 سے بڑھ کر 33 ہونے کے سبب ضلعی ٹیکس ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔ خاص طور پر حیدرآباد کے اطراف کام کرنے والے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو معمولی روٹس یا یو ٹرن لینے پر بھی جرمانوں اور دہری ٹیکس ادائیگی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

کانگریس کی قیادت میں دسمبر 2023 میں حکومت بننے کے بعد ایسوسی ایشنز نے تجویز دی کہ پورے حیدرآباد میٹروپولیٹن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے علاقے کو ایک ہی زون قرار دیا جائے۔ اس تجویز پر حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کے بعد قریبی اور مختصر روٹس پر ٹیکس کے اطلاق کو آسان بنانے پر بات چیت جاری ہے۔

بین الریاستی ٹرانسپورٹ میں پیش رفت | Transport Reforms

سید نظام الدین نے بین الریاستی ٹرانسپورٹ معاہدے سے تلنگانہ کے اخراج کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق 2017 کے بعد آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ کے ساتھ سابقہ باہمی معاہدے سے علیحدگی کے باعث سرحدی ٹیکس عائد ہوا، جس سے اخراجات بڑھے اور خدمات محدود ہوئیں۔

مسلسل نمائندگی کے بعد تلنگانہ حکومت نے اس معاملے پر بھی ایک کمیٹی قائم کی، جس کے نتیجے میں کرناٹک نے تلنگانہ کے ساتھ نئے باہمی ٹرانسپورٹ معاہدے پر آمادگی ظاہر کی۔ توقع ہے کہ اس فیصلے سے سرحد پار آپریشن آسان ہوں گے اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز پر مالی بوجھ کم ہوگا۔

سید نظام الدین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ٹریول اور ٹرانسپورٹ شعبے کے مفادات کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحاد، مستقل مکالمہ اور حکومت سے رابطہ ہی پائیدار اصلاحات کی کنجی ہے۔ ایسوسی ایشن کے اراکین نے ان کی قیادت پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بھی نجی ٹرانسپورٹ آپریٹرز کی مؤثر نمائندگی کرتے رہیں گے۔