Read in English  
       
Rights Action

 حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے کھمم کے سرکاری قبائلی ہاسٹل میں ہلاک ہونے والے 10 سالہ دیوتھ جوزف کے اہلِ خانہ کے لیے سرکاری ملازمت اور مالی امداد کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے یہ فیصلہ ہاسٹل اسٹاف اور قبائلی بہبود محکمہ کے نگران افسران کی سنگین غفلت کی نشاندہی کے بعد کیا۔ ہاسٹل اسٹاف کی کوتاہی نے براہِ راست بچے کی جان لی۔

کمیشن کے چیئرپرسن ڈاکٹر جسٹس شیمیم اختر نے 5 دسمبر کو احکام جاری کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ عملے کی عدم توجہ اور نگرانی کے فقدان نے بچے کو ایسے حالات میں دھکیل دیا جن سے اس کی موت واقع ہوئی۔ کمیشن نے متاثرہ خاندان کی کمزور معاشی صورتحال کو بھی اہم نکتہ قرار دیا۔ بچے کی والدہ قوتِ گویائی و سماعت سے محروم ہیں اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ غیر مستقل مزدو ری کرتی ہیں۔

کمیشن کی سفارشات اور ریاستی حکومت سے مطالبات | Rights Action

کمیشن نے چیف سیکریٹری تلنگانہ کو سفارش بھیجی کہ جوزف کی والدہ کو سروس رولز میں نرمی کرتے ہوئے لاسٹ گریڈ ملازمت دی جائے۔ اس کے علاوہ خاندان کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کیا جائے۔ کمیشن نے کہا کہ یہ اقدامات خاندان کی عزتِ نفس کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے ضروری ہیں۔

کمیشن نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ سفارشات کو چھ ماہ کے اندر نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی عمل درآمد رپورٹ کمیشن کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان سفارشات کا مقصد ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔

ذمہ داران کی غفلت اور انسانی حقوق کا پہلو | Rights Action

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاسٹل کے اسٹاف نے بچے کی حالت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ نگران افسران نے بھی ضروری نگرانی نہیں کی، جس کی وجہ سے واقعہ رونما ہوا۔ کمیشن نے کہا کہ قبائلی بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں ذمہ داری کا معیار انتہائی سخت ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق یہ سفارشات ریاستی سطح پر ہاسٹل انتظامیہ میں شفافیت بڑھانے میں مدد کریں گی۔ اہلکاروں کا ماننا ہے کہ اس کیس نے کمزور طبقات کے بچوں کی حفاظت کے نظام میں موجود خامیاں سامنے لا دی ہیں۔ اس واقعے نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید مضبوط اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔