Read in English  
       
Train Fare

حیدرآباد: مرکزی حکومت نے ملک بھر کے ریلوے مسافروں پر اضافی بوجھ عائد کرتے ہوئے ٹرین کرایوں میں تازہ اضافہ نافذ کر دیا ہے۔ یہ اضافہ جمعہ 26 دسمبر 2025 سے لاگو ہو گیا، جس کے ساتھ ہی پانچ مہینوں کے اندر کرایوں میں دوسری مرتبہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جولائی میں کرایوں میں نظرثانی کی گئی تھی۔

نئے کرایوں کا اطلاق میل اور ایکسپریس ٹرینوں، اے سی کوچز اور 215 کلومیٹر سے زائد فاصلے کے نان اے سی عام سفر پر ہوگا۔ تاہم شہری سبربن لوکل ٹرینیں اور سیزن ٹکٹ اس اضافے سے مکمل طور پر مستثنیٰ رکھے گئے ہیں، جس سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو کچھ راحت ملی ہے۔

ترمیم شدہ کرایے سلیپر کلاس، اے سی چیئر کار، اے سی تھری ٹائر، اے سی ٹو ٹائر اور فرسٹ کلاس کوچز پر لاگو ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ راجدھانی، شتابدی اور وندے بھارت جیسی پریمیم ٹرین سروسز بھی اس اضافے کی زد میں آئیں گی۔

کرایوں میں اضافے کی وجوہات | Train Fare

ریلوے وزارت کے مطابق کرایوں میں یہ اضافہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت کو متوازن بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ عملے کی تنخواہوں پر سالانہ تقریباً 1.15 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں، جبکہ پنشن کی مد میں قریب 60 ہزار کروڑ روپے ادا کیے جاتے ہیں۔

وزارت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے رواں مالی سال میں تقریباً 600 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ حکومت اب بھی مسافر ٹکٹ کی لاگت کا تقریباً 50 فیصد سبسڈی کے طور پر برداشت کر رہی ہے۔

نئے کرایہ کی تفصیل | Train Fare

ریلوے بورڈ کے کمرشل سرکلر نمبر 24 کے مطابق سبربن ٹرینوں اور سیزن ٹکٹوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اسی طرح 215 کلومیٹر تک سفر کرنے والے نان اے سی عام مسافر پرانے کرایے ہی ادا کریں گے۔

215 کلومیٹر سے زائد فاصلے کے لیے نان اے سی عام کلاس میں سفر کرنے والوں پر 5 سے 20 روپے تک اضافی کرایہ عائد کیا گیا ہے، جو سفر کے فاصلے پر منحصر ہوگا۔ عام سلیپر کلاس میں فی کلومیٹر ایک پیسہ اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ میل اور ایکسپریس ٹرینوں میں فی کلومیٹر دو پیسے اضافہ نافذ کیا گیا ہے۔

یہ اضافہ نان اے سی اور اے سی دونوں زمروں پر لاگو ہوگا اور طویل فاصلے کی پریمیم ٹرینوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ ریلوے وزارت نے واضح کیا کہ 26 دسمبر سے قبل بک کیے گئے ٹکٹوں پر نئے کرایے لاگو نہیں ہوں گے۔ ریزرویشن فیس اور سپر فاسٹ سرچارج میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔