Read in English  
       
Rail Budget

حیدرآباد: مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے لیے ریلوے بجٹ میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے 2026–27 کے لیے 5,454 کروڑ روپئے مختص کیے ہیں۔ اس رقم کو ماضی کے مقابلے میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ چنانچہ، یہ مختص رقم 2009 سے 2014 کے درمیان اوسط 886 کروڑ روپئے کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔

اس اضافی فنڈنگ کے نتیجے میں ریاست بھر میں ریلوے انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو تیزی ملی ہے۔ مزید یہ کہ، 47,984 کروڑ روپئے کے مختلف منصوبے اس وقت جاری ہیں۔ ان میں نئی ریلوے لائنیں، اسٹیشنوں کی جدید کاری اور حفاظتی نظام کی تنصیب شامل ہے۔

حکام کے مطابق، یہ توسیع قومی سطح پر نقل و حرکت کو بہتر بنانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ اسی لیے، منصوبہ بندی کو طویل مدتی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اسٹیشنوں کی جدید کاری اور نئی ٹرینیں | Rail Budget

امرت اسٹیشن اسکیم کے تحت تلنگانہ کے 40 اسٹیشنوں کو جدید خطوط پر ترقی دی جا رہی ہے، جن پر 2,015 کروڑ روپئے خرچ ہو رہے ہیں۔ اسی دوران، بیگم پیٹ، کریم نگر، ورنگل اور شری بالا برہمیشورا جوگولامبا اسٹیشنوں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ نتیجتاً، مسافروں کو بہتر سہولتیں میسر آ رہی ہیں۔

دوسری جانب، ٹرین خدمات میں بھی توسیع کی گئی ہے۔ ریاست میں اب وندے بھارت ایکسپریس کی پانچ جوڑیاں اور امرت بھارت ایکسپریس کی تین جوڑیاں چل رہی ہیں۔ اس طرح، اہم راہداریوں پر سفر مزید آسان ہو گیا ہے۔

نئی لائنیں، مکمل برقی کاری اور سلامتی | Rail Budget

2014 کے بعد سے تلنگانہ میں تقریباً 900 کلومیٹر نئی ریلوے لائنیں شامل کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ریاست کا پورا ریلوے نیٹ ورک مکمل طور پر برقی کاری سے آراستہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا، ایندھن کے اخراجات میں کمی اور ماحولیاتی فائدے حاصل ہو رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، بھارتیہ ریلوے کی جانب سے کاوچ نامی ٹکراؤ سے بچاؤ کا جدید نظام بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کا مقصد حادثات کی روک تھام اور ٹرین آپریشنز کو مزید محفوظ بنانا ہے۔ یوں، مجموعی طور پر سلامتی کے معیار میں بہتری متوقع ہے۔