Read in English  
       
Clean Air

حیدرآباد: نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا ملو نے کہا ہے کہ صاف ہوا کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تلنگانہ حکومت سائنسی بنیادوں پر ایک واضح اور مضبوط حکمتِ عملی کے ساتھ عوام کو صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اسی لیے حکومت کی ترقیاتی ترجیحات میں ماحولیاتی تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

پس منظر کے طور پر، انہوں نے ریاستی سطح کی کانفرنس “ایئر کوالٹی انڈیکس اور ایئر کوالٹی مینجمنٹ” سے خطاب کیا۔ یہ اجلاس مری چنّا ریڈی ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

ترقی اور ماحول کا توازن | Clean Air

نائب وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صاف ہوا صحت مند تلنگانہ کی بنیاد ہے۔ اگرچہ ریاست تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور حیدرآباد آئی ٹی، لائف سائنسز اور مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بن رہا ہے، تاہم معاشی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، انہوں نے کہا کہ ترقی اور ماحول دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے۔

Clean Air

انہوں نے صاف ہوا کو صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت، پیداواری صلاحیت اور معیشت سے جڑا ہوا اہم عنصر قرار دیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہوا صاف نہ ہو تو ترقی تاخیر کا شکار ہو کر نقصان میں بدل جاتی ہے۔

شہری پھیلاؤ اور آلودگی کے خدشات | Clean Air

کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں صنعتی سرگرمیاں 32 فیصد تک فضائی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔ اگرچہ ذراتی مادّے پر قابو پانے کے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز جیسے آلودگی پھیلانے والے عناصر پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے جیدی میٹلا اور دیگر صنعتی علاقوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے اندر موجود یہ زونز، جو کبھی شہر کے مضافات میں تھے، اب رہائشی علاقوں سے گھر چکے ہیں۔ نتیجتاً وہاں رہنے والے شہری صحت اور سلامتی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے مخلوط علاقوں میں صنعتی حادثات بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے زوننگ اصلاحات، زمین کے استعمال میں تبدیلی اور صنعتی تنظیمِ نو کی ضرورت پر زور دیا۔

آخر میں، انہوں نے اعلان کیا کہ آلودگی سے نمٹنے کے لیے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے دو زونز میں خصوصی ٹیموں کا تجرباتی آغاز کیا جائے گا۔ اگر یہ اقدام کامیاب رہا تو اسے پورے تلنگانہ میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔