Read in English  
       
Cyber Shield

حیدرآباد: تلنگانہ میں سائبر جرائم کی روک تھام اور ڈیجیٹل تحفظ کو مضبوط بنانے کے مقصد سے سائبر سیکیورٹی بیورو نے جمعرات کو شیلڈ 2.0 کانفرنس کا آغاز کیا۔ یہ کانفرنس حیدرآباد کے کمانڈ کنٹرول سینٹر میں منعقد کی گئی، جس میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

افتتاحی اجلاس میں چیف سیکریٹری کے رام کرشن راؤ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس بی شیودھر ریڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر کانفرنس کا موضوع “متاثرین کے لیے تحفظ، ڈیجیٹل مستقبل کے لیے سلامتی” رکھا گیا۔ اسی دوران، چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی نے سائبر سارتھی پوسٹر کی رسمِ اجرا بھی انجام دی۔

مزید یہ کہ منتظمین نے شیلڈ 2025 کی کامیابیوں پر مبنی ایک خصوصی ویڈیو بھی پیش کی، جس میں 2026 کے اہداف کو واضح کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، مصنوعی ذہانت پر مبنی پولیسنگ سے متعلق خصوصی مذاکرے کا اعلان کیا گیا، جس میں تمل ناڈو اور پنجاب کے آئی پی ایس افسران شرکت کریں گے۔

سائبر جرائم اور بچوں کے تحفظ پر پیش رفت | Cyber Shield

کانفرنس میں ملک بھر سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیدار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، صنعت کے ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور سائبر سیکیورٹی ماہرین شریک ہوئے۔ اس وسیع شرکت نے کانفرنس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

پولیس حکام کے مطابق، شیلڈ 2025 اقدام کے تحت وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کا آغاز کیا تھا۔ نتیجتاً، آن لائن بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف کارروائی میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ پہلے مرحلے میں 50,400 اطلاعات کی بنیاد پر 37 مقدمات درج کیے گئے اور 36 گرفتاریاں ہوئیں۔

تاہم، سی پی یو کے قیام کے بعد 1,20,563 سے زائد اطلاعات پر کارروائی کی گئی، 866 مقدمات درج ہوئے اور 421 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس پیش رفت کو سائبر جرائم کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

بدلتے خطرات اور انتظامی تیاری | Cyber Shield

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کے رام کرشن راؤ نے کہا کہ حکمرانی، عوامی خدمات اور اہم انفراسٹرکچر کو متاثر کرنے والے سائبر خطرات مؤثر پالیسی ہم آہنگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے انتظامی تیاری اور محکموں کے درمیان بہتر تال میل پر زور دیا۔

دوسری جانب، ڈی جی پی بی شیودھر ریڈی نے کہا کہ جرائم کے بدلتے طریقوں اور سائبر جرائم میں اضافے کے باعث پولیس کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لہٰذا، جدید تفتیشی آلات، خصوصی تربیت اور ریاست گیر مربوط ردِعمل نظام کی اشد ضرورت ہے۔

یوں، شیلڈ 2.0 کانفرنس نے سائبر جرائم کے خلاف اجتماعی حکمت عملی، بچوں کے تحفظ اور ڈیجیٹل سلامتی کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے اقدامات تلنگانہ کو سائبر سیکیورٹی کے میدان میں ایک مضبوط ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔