Read in English  
       
Registration Reforms

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے اسٹامپس اور رجسٹریشن محکمہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس نظام کو شفاف، بدعنوانی سے پاک اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ ریونیو، ہاؤسنگ اور اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ یہ اصلاحات محکمہ کو محض آمدنی جمع کرنے والے ادارے کے بجائے عوامی خدمت کے مرکز میں تبدیل کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے وژن کے مطابق ہیں، جن کا مقصد عوام کو بہتر، آسان اور بااعتماد خدمات فراہم کرنا ہے۔ وزیر نے یہ باتیں میڈچل ملکاجگری ضلع کے کوکٹ پلی میں انٹیگریٹڈ سب رجسٹرار آفس کے سنگ بنیاد کے موقع پر کہیں۔

وزیر کے مطابق حکومت مرحلہ وار جدید، کارپوریٹ طرز کے انٹیگریٹڈ دفاتر قائم کرے گی، جس سے شہریوں کو ایک ہی مقام پر تمام سہولتیں دستیاب ہوں گی اور وقت و محنت کی بچت ہوگی۔

انٹیگریٹڈ دفاتر | Registration Reforms

پہلے مرحلے میں حیدرآباد، رنگا ریڈی، میڈچل اور سنگاریڈی اضلاع میں 39 سب رجسٹرار دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ یہ دفاتر 12 کلسٹرز کی صورت میں کام کریں گے تاکہ کارکردگی اور رسائی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔

وزیر نے واضح کیا کہ اس منصوبے پر حکومت کو کوئی مالی بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔ نجی بلڈرز ان دفاتر کی تعمیر کریں گے اور پانچ سال تک ان کی دیکھ بھال بھی کریں گے، جس کے بعد یہ سہولتیں حکومت کے حوالے کر دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کے تحت محکمہ کی توجہ محض ریونیو جمع کرنے کے بجائے معیاری سروس ڈیلیوری پر مرکوز رہے گی، جس سے عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

زمین کا تحفظ | Registration Reforms

وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ ان اصلاحات کا ایک اہم مقصد غریبوں کی زمینوں کا تحفظ اور سرکاری املاک کی حفاظت بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زمینوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ساتھ ہی انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کبھی سرکاری ضرورت کے لیے الاٹ شدہ زمینیں حاصل کی گئیں تو متاثرین کو منصفانہ معاوضہ دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ اصلاحات شفافیت کو فروغ دیں گی، عوامی اعتماد میں اضافہ کریں گی اور رجسٹریشن نظام کو زیادہ جواب دہ بنائیں گی۔