Read in English  
       
Press Misuse

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ریاست بھر میں گاڑیوں پر ’’پریس‘‘، انسانی حقوق کمیشن سے متعلق عناوین، سرکاری علامتوں اور گمراہ کن نشانات کے غیر مجاز استعمال کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ فیصلہ قانون کی بالادستی اور عوام کو دھوکہ دہی سے بچانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

محکمے کی جانب سے 22 جنوری 2026 کو جاری میمو میں بتایا گیا کہ یہ ہدایات کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دی گئی ہیں۔ عدالت نے غیر مجاز جھنڈوں، علامتوں، ناموں، اسٹیکرز، مہروں اور لوگوز کو گاڑیوں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

قانونی خلاف ورزیوں کی نشاندہی | Press Misuse

میمو کے مطابق گاڑیوں پر اس طرح کے نشانات سینٹرل موٹر وہیکل رولز 1989 کے رول 50 اور رول 51 کی خلاف ورزی ہیں، جو رجسٹریشن نمبر پلیٹس کی ساخت اور طریقہ کار سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ موٹر وہیکل ڈرائیونگ ریگولیشنز 2017 کے ضابطہ 36 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

ان قوانین کے تحت کسی بھی ایسے نشان یا عنوان کی اجازت نہیں جو عوام میں سرکاری حیثیت کا غلط تاثر پیدا کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کا عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سیکیورٹی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

نفاذ اور آگاہی مہم | Press Misuse

عدالتی حکم کے بعد ٹرانسپورٹ کمشنر نے تمام نفاذی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ گاڑیوں پر ایڈووکیٹ اور پریس اسٹیکرز سمیت انسانی حقوق سے متعلق گمراہ کن عناوین کے غلط استعمال کو فوری طور پر روکیں۔ محکمہ نے واضح کیا کہ صرف محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ سے منظور شدہ ایکریڈیٹیشن کارڈ کے حامل میڈیا اہلکار ہی گاڑیوں پر ’’پریس‘‘ کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ رجسٹریشن نمبر پلیٹس پر کسی بھی صورت میں ’’پریس‘‘ تحریر کرنا ممنوع ہے۔ حکومت نے تمام ضلعی پبلک ریلیشنز افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کارروائی کو وسیع پیمانے پر مشتہر کریں اور اپنے اپنے اضلاع میں قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔