Read in English  
       
Political Values

حیدرآباد: بی جے پی تلنگانہ کے صدر این رام چندر راؤ نے منحرف ارکانِ اسمبلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کی سیاست کو “بے اقدار سیاست” قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ارکان عوامی طور پر کانگریس سے وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ اسپیکر کے سامنے خود کو بی آر ایس کا رکن بتاتے ہیں، جو سیاسی دیانت داری کے منافی ہے۔

بدھ کے روز بی جے پی کے ریاستی دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رام چندر راؤ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی موجودگی میں کانگریس کا کھنڈوا پہننے والے بی آر ایس ارکان نے آج تک اپنی پارٹی حیثیت واضح نہیں کی۔ ان کے مطابق یہی ابہام کانگریس حکومت کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔

دوہرا مؤقف | Political Values

رام چندر راؤ نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں سیاسی اقدار کا زوال بھارت راشٹرا سمیتی کے دور میں شروع ہوا، اور اب کانگریس حکومت بھی اسی راستے پر چل رہی ہے۔ ان کے مطابق اقتدار کے لیے اصولوں کو قربان کرنا ریاستی سیاست کے لیے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی وہ جماعت ہے جو ماضی میں انسدادِ انحراف قانون لے کر آئی تھی، مگر اقتدار میں آ کر اسی قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ طرزِ عمل جمہوری نظام کو کمزور کرتا ہے۔

کانگریس پر سوالات | Political Values

بی جے پی صدر نے مزید الزام لگایا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ہمیشہ اسی جماعت کا ساتھ دیتی ہے جو اقتدار میں ہو۔ ان کے مطابق یہ رویہ اصولی سیاست کے برخلاف ہے۔

مقامی اداروں کے فنڈز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رام چندر راؤ نے کہا کہ کانگریس رہنما گرام پنچایتوں کو 3,000 کروڑ روپئے دینے کے دعوے کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ رقم مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے حقائق سامنے لانے چاہئیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں شفاف، اصولی اور جواب دہ سیاست کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی، تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔