Read in English  
       
Political Fallout

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کے رویے پر پارٹی کے اندر ہی سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ خیرت آباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر نے الزام عائد کیا ہے کہ کے ٹی آر کی انا اور جارحانہ سیاست پارٹی کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی روش برقرار رہی تو بی آر ایس کو مزید زوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دانم ناگیندر نے کہا کہ قومی رہنما راہل گاندھی اور وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کے خلاف ذاتی نوعیت کے حملے سیاسی شائستگی کے خلاف ہیں۔ ان کے بقول اس طرح کے بیانات نہ صرف سیاسی گفتگو کو کمزور کرتے ہیں بلکہ پارٹی کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

بی آر ایس کو نقصان | Political Fallout

دانم ناگیندر کے مطابق کے ٹی راما راؤ جان بوجھ کر وزیراعلیٰ کے ساتھ محاذ آرائی اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار کی ذاتی تنقید الٹا اثر ڈالتی ہے اور خود کے ٹی آر کی سیاسی حیثیت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے طرز عمل سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں بی آر ایس کی شکست کی ایک بڑی وجہ کے ٹی آر کی انا اور جارحانہ سیاسی انداز تھا۔ ان کے مطابق ذاتی مفاد کے لیے تقسیم کی سیاست اختیار کی گئی، جس کا خمیازہ پوری جماعت کو بھگتنا پڑا۔

سیاست یا حکمرانی | Political Fallout

دانم ناگیندر نے کہا کہ سیاسی قائدین کو حکمرانی سے متعلق مسائل پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس سے عوام کو فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق گالی گلوچ اور سخت زبان صرف جوابی حملوں کو بڑھاتی ہے اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کے ٹی راما راؤ کوئی بیان دیتے ہیں تو وزیراعلیٰ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آتا ہے، جس سے بی آر ایس کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر رویے میں تبدیلی نہ آئی تو پارٹی کو مسلسل سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

آخر میں دانم ناگیندر نے خبردار کیا کہ اگر یہی غلطیاں دہراتے رہے تو بی آر ایس طویل مدت میں غیر متعلق ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اصلاح نہ کی گئی تو پارٹی کا وجود بھی تلنگانہ کی سیاست میں خطرے میں پڑ سکتا ہے۔