Read in English  
       
Khammam Development

حیدرآباد: بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے بدھ کے روز کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دو سال اقتدار میں رہنے اور ضلع سے تین وزرا ہونے کے باوجود کھمم میں ایک بھی نمایاں ترقیاتی کام نظر نہیں آتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوامی فلاح کے بجائے محض دعوے کیے جا رہے ہیں۔

کھمم میں بی آر ایس سرپنچوں کے اعزازی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے ضلع کی زرعی خوشحالی کے لیے سیتا رام ساگر پراجیکٹ کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد آبپاشی کو فروغ دینا اور گوداوری کے پانی میں کھمم کا حق یقینی بنانا تھا۔

ان کے مطابق بی آر ایس دورِ حکومت میں اس پراجیکٹ کا تقریباً 90 فیصد کام مکمل کر لیا گیا تھا اور اس سے 7.5 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی فراہم ہونا تھا، لیکن کانگریس حکومت کے اقتدار میں آتے ہی یہ منصوبہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔

سیتا رام ساگر منصوبہ | Khammam Development

کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے تینوں وزرا عوامی فلاح کے بجائے کمیشن پر توجہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وزرا عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور ضلع کی ترقی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

بی آر ایس رہنما نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سیتا رام ساگر پراجیکٹ کے تحت اسواراوپیٹ میں 1.30 لاکھ ایکڑ، سیتوپلی میں 40 ہزار ایکڑ، ایلندو اور وائرہ میں 20،20 ہزار ایکڑ اور کوتہ گوڑم میں 10 ہزار ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کیا جانا تھا، مگر اب یہ تمام منصوبے نظر انداز ہو چکے ہیں۔

کانگریس پر الزامات | Khammam Development

بی آر ایس رہنما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دو سالہ کانگریس دور کی واحد پہچان ڈیفالٹس، انہدامات اور دھماکے بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے عیاں ہو چکی ہے اور کھمم کے عوام خود کو دھوکہ خوردہ محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سیتا رام ساگر پراجیکٹ مکمل ہو جاتا تو نہ صرف زراعت کو فائدہ ہوتا بلکہ ضلع کی معیشت کو بھی نئی جان ملتی، مگر موجودہ حکومت نے اس سنہری موقع کو ضائع کر دیا۔