Read in English  
       
KCR Condolence

حیدرآباد: بی آر ایس سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نے تلنگانہ ترانے کے خالق اور ممتاز شاعر اندیشری کے اچانک انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار KCR Condolence کیا۔ انہوں نے کہا کہ اندیشری کی وفات ریاست کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ کے سی آر کے مطابق ان کے نغمے اور تحریریں تلنگانہ تحریک کو مضبوط کرنے والے ثقافتی انقلاب کا اہم حصہ تھیں۔

کے سی آر نے کہا کہ اندیشری کا لکھا ہوا ترانہ “جیا جیا ہے تلنگانہ” ہمیشہ زندہ رہے گا اور تلنگانہ کی شناخت کا حصہ بن کر گونجتا رہے گا۔ انہوں نے تحریک کے دوران اندیشری کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو یاد کیا اور کہا کہ ان کا انتقال تلنگانہ کی ثقافتی دنیا میں ایک خلا چھوڑ گیا ہے۔ کے سی آر نے مرحوم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی اور اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔

کے ٹی آر اور ہریش راؤ کا اظہارِ افسوس | KCR Condolence

سابق وزیر اور بی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے بھی اندیشری کے اچانک انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ ایک پوسٹ میں کے ٹی آر نے لکھا، “ڈاکٹر اندیشری کی اچانک وفات نے مجھے شدید صدمہ پہنچایا۔ ان کے نغمے جنہوں نے تلنگانہ تحریک کو نئی روح بخشی، ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔” انہوں نے کہا کہ یہ دن تلنگانہ کے ادبی اور ثقافتی حلقوں کے لیے ایک سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح سابق وزیر اور سدّی پیٹ کے ایم ایل اے ٹی ہریش راؤ نے بھی ایک پیغام میں تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “نامور شاعر اور ادیب اندیشری کی اچانک وفات انتہائی افسوسناک ہے۔ میں ان کے اہلِ خانہ اور مداحوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔”
بعد ازاں حکام نے تصدیق کی کہ 64 سالہ اندیشری پیر کی صبح اپنے گھر پر بے ہوش ہوکر گر پڑے تھے۔ اہلِ خانہ انہیں گاندھی اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی جاں بحق ہوچکے تھے۔ ان کی وفات کی خبر سے تلنگانہ کے ادبی حلقے اور مداح گہرے غم میں مبتلا ہوگئے۔