Read in English  
       
Kavitha on Caste Census

حیدرآباد: کلواکنٹلہ کویتا نے ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے پر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز عوام کو گمراہ کر رہا ہے اور مردم شماری کی تیاری میں شفافیت کا فقدان ہے۔ چنانچہ ان کے مطابق یہ معاملہ سماجی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف جاتا ہے۔

پس منظر کے طور پر، حیدرآباد میں منعقدہ ذات مردم شماری پر گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ دستاویز میں اب بھی صرف درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔ تاہم، دیگر طبقات کے لیے صورتحال غیر واضح رکھی گئی ہے۔

ذات مردم شماری میں ابہام | Kavitha on Caste Census

کویتا نے وضاحت کی کہ دیگر پسماندہ طبقات اور مختلف ذاتوں کو محض “دیگر” کے خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ نتیجتاً ذاتوں اور ذیلی ذاتوں کے ساتھ سنگین ناانصافی کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان ذات کی درجہ بندی پہلے ہی مختلف ہے، اس لیے یہ نیا طریقہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر پسماندہ طبقات ملک کی آبادی کا تقریباً 56 فیصد حصہ ہیں۔ اس کے باوجود اگر انہیں واضح شناخت نہ دی گئی تو مسائل میں اضافہ ہوگا۔ اسی لیے انہوں نے اس دستاویز کو ناقص اور غیر منصفانہ قرار دیا۔

پالیسی پر تنقید اور ریاستی موقف | Kavitha on Caste Census

مزید برآں، کویتا نے معاشی طور پر کمزور طبقات کے سرٹیفکیٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بالائی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کو اس مردم شماری میں کہاں رکھا جائے گا۔ لہٰذا ان کے مطابق یہ ابہام اتفاقی نہیں بلکہ جان بوجھ کر پیدا کیا گیا ہے۔

اسی دوران، انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ذات مردم شماری پر بحث جاری ہے۔ اس لیے تلنگانہ کو بھی اپنے خیالات مرکز تک پہنچانے چاہئیں۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگروتی ریاست میں ذات اور ذیلی ذات کا ڈیٹا جمع کرے گی اور بعد ازاں اسے مرکز کو پیش کیا جائے گا۔

آخر میں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ذمہ داری ریاستی حکومت کو نبھانی چاہیے تھی۔ تاہم، انہوں نے بھارت راشٹرا سمیتی اور کانگریس دونوں پر مردم شماری کی دستاویز پر خاموش رہنے پر تنقید کی۔