Read in English  
       
Online Piracy

حیدرآباد: آئی بومّا روی کی حراستی رپورٹ منگل کے روز منظرِ عام پر آئی، جس میں غیر قانونی فلم خریداری، غیر ملکی کرنسی میں ادائیگیوں اور آن لائن قزاقی سے حاصل ہونے والی بھاری آمدنی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پولیس کے مطابق اس معاملے نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فلم قزاقی کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تحقیقات کے دوران روی نے انکشاف کیا کہ وہ فلمیں دو فارمیٹس میں خریدتا تھا۔ اس نے ہر کیم کارڈر پرنٹ کے لیے 100 ڈالر جبکہ ہر ایچ ڈی پرنٹ کے لیے 200 ڈالر ادا کیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ادائیگیاں امریکی ڈالر میں کی گئیں۔

مالی لین دین کی جانچ | Online Piracy

تفتیشی حکام کے مطابق روی کے بینک کھاتوں میں مجموعی طور پر 13.40 کروڑ روپئے کی رقم کا سراغ ملا ہے۔ اس میں سے 1.58 کروڑ روپئے بیٹنگ ایپس کی تشہیر سے حاصل ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ روی نے ان رقوم میں سے تقریباً 90 لاکھ روپئے اپنی بہن چندریکا کو منتقل کیے۔

پولیس کے مطابق روی نے ابتدا میں کوکٹ پلی سے اپنا کام شروع کیا۔ آمدنی میں اضافہ ہونے کے بعد وہ تفریحی مقاصد کے لیے کئی غیر ملکی دوروں پر گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک قیام کے باوجود وہ مالی لین دین اور دیگر سرگرمیوں کو منظم کرتا رہا۔

عدالت میں پیشی | Online Piracy

پولیس نے روی کو 12 دن کی حراست میں رکھا، جس دوران تین مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر 12 دن تک اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ ہر مقدمے میں چار دن کی تفتیش کی گئی۔

عدالت میں پیشی کے دوران آئی بومّا روی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تمام الزامات کی تردید کی۔ اس نے کہا کہ اس کے خلاف درج مقدمات بے بنیاد ہیں اور وہ عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرے گا۔ روی نے کہا کہ مناسب وقت پر وہ تمام حقائق سامنے لائے گا۔

پولیس کے مطابق حراست کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے، اور آن لائن قزاقی سے جڑے دیگر پہلوؤں کی بھی جانچ جاری ہے۔