Read in English  
       
Swiss Mall

حیدرآباد: حیدرآباد میں دنیا کا پہلا سوئس مال قائم کرنے کی تجویز ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ پیش رفت وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی جانب سے داووس میں عالمی اقتصادی فورم 2026 کے موقع پر سوئس قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔ ریاستی حکومت نے اس منصوبے کو عالمی شراکت داری کی سمت ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

داووس میں وزیر اعلیٰ نے بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے آزاد تجارتی فریم ورک کے تحت تلنگانہ اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے کینٹن آف واڈ کی چیف منسٹر کرسٹیل لویزیئر بروڈارڈ سے ملاقات کی، جہاں مجوزہ سوئس مال سے جڑی معاشی اور ثقافتی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سوئس قیادت نے اس منصوبے پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مجوزہ مال کے ذریعے سوئس ریٹیل برانڈز، اعلیٰ معیار کی مصنوعات اور جدید طرزِ زندگی سے متعلق خدمات حیدرآباد میں متعارف کرائی جائیں گی۔

ثقافتی اور تعلیمی تعاون | Swiss Mall

مذاکرات کے دوران ثقافت، تعلیم، مہمان نوازی اور کھیلوں میں اسکل ڈیولپمنٹ کے شعبوں میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عوامی سطح پر روابط کو مضبوط بنانا طویل مدتی معاشی تعلقات کے لیے ضروری ہے۔

تلنگانہ وفد نے ریٹیل سسٹمز اور لائف سائنسز میں نالج شیئرنگ کے امکانات بھی اجاگر کیے۔ اس پر سوئس نمائندوں نے خاص طور پر خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات میں دلچسپی ظاہر کی، بالخصوص سیلف ہیلپ گروپ ماڈلز کے حوالے سے۔

اگلا مرحلہ اور سوئس وفد | Swiss Mall

داووس اجلاس کے بعد سوئٹزرلینڈ کی وزیر صنعت و معیشت ایزابیل مورے نے تصدیق کی کہ ایک سوئس وفد جلد حیدرآباد کا دورہ کرے گا۔ سرکاری عہدیداروں کے مطابق یہ دورہ سوئس مال کی تجویز کو عملی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

اس دورے کے دوران ریٹیل انوویشن، اسکل ڈیولپمنٹ اور اس سے منسلک صنعتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔ حکومتِ تلنگانہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ریاست کے طویل مدتی معاشی وژن سے ہم آہنگ ہے اور حیدرآباد کو عالمی شراکت داریوں کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر مستحکم کرے گا۔