Read in English  
       
Civil Aviation

حیدرآباد:ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے دفاعی پیداوار پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے سول ہوابازی کے شعبے میں منظم توسیع کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈی کے سنیل نے کہا کہ اس وقت ایچ اے ایل کی تقریباً 97 فیصد آمدنی دفاعی مینوفیکچرنگ سے آتی ہے، تاہم اب ادارہ سول ایوی ایشن میں مضبوط قدم جمانے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔

حیدرآباد میں ونگز انڈیا ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنیل نے سول ہوابازی کے لیے طویل مدتی روڈ میپ پیش کیا۔ ان کے مطابق ایچ اے ایل ریجنل فکسڈ وِنگ طیاروں، سول ہیلی کاپٹروں اور مختصر فاصلے کے ریجنل جیٹس پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اسی منصوبے کے تحت ادارہ اپنی موجودہ صلاحیتوں کو وسعت دے رہا ہے۔

پس منظر کے طور پر انہوں نے بتایا کہ ایچ اے ایل نے ہندستان 228 طیارے کو ڈی جی سی اے کے ضوابط کے تحت دوبارہ سول آپریشن کے لیے سرٹیفائی کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گیانا نے اس طیارے کو اپنے بیڑے میں شامل کر لیا ہے، جہاں دو طیارے فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید دو کے لیے معاہدہ طے پا چکا ہے۔

سول ہیلی کاپٹر شعبے میں پیش رفت | Civil Aviation

ڈاکٹر ڈی کے سنیل نے کہا کہ جزیرہ نما ممالک اور سمندری خطوں میں ایچ اے ایل کے طیاروں کی مانگ میں اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا اور کریبیئن خطہ ادارے کی ترجیحی منڈیاں ہیں، جہاں ریجنل کنیکٹیوٹی کے لیے ایسے طیاروں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

روٹری وِنگ سیگمنٹ میں ایچ اے ایل دھرُو ہیلی کاپٹر کے سول ویرینٹ کی سرٹیفکیشن کے آخری مرحلے میں ہے۔ حال ہی میں اس ہیلی کاپٹر نے وزارتِ شہری ہوابازی کے فریم ورک کے تحت اپنی پہلی پرواز مکمل کی ہے۔ کمپنی کو امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں اسے مکمل منظوری مل جائے گی۔

اسی دوران ایچ اے ایل کو سول ہیلی کاپٹر شعبے میں پہلی بڑی کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ پون ہنس لمیٹڈ کی جانب سے دس ہیلی کاپٹروں کا آرڈر دیا گیا ہے، جو او این جی سی کے آف شور آپریشنز میں استعمال ہوں گے۔ اس کے علاوہ ادارہ سرحدی نگرانی، بلند پہاڑی علاقوں، سیاحت، ایمرجنسی میڈیکل خدمات اور قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں میں بھی اپنے پلیٹ فارمز پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

لاگت میں کمی اور حکومتی تعاون | Civil Aviation

ڈاکٹر سنیل کے مطابق ریجنل ہوابازی میں ایندھن اور مینٹیننس کے اخراجات سب سے بڑا چیلنج ہیں۔ اسی لیے ایچ اے ایل مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور اسپیئر پارٹس کی تیاری پر زور دے رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے نجی صنعت کے ساتھ شراکت داری اور موجودہ انفراسٹرکچر کے استعمال کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ شہری ہوابازی نے ایچ اے ایل کے سول ہوابازی پروگرام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس تعاون میں سرٹیفکیشن کے عمل میں مدد اور ملکی سطح پر طیارہ سازی کو قابلِ عمل بنانے کے لیے وی ایبیلٹی گیپ سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت بھارتی سول ہوابازی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔